امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے محدود تعداد میں جہاز گزر رہے ہیں۔ بدھ کے روز صرف 5 جبکہ جمعرات کو 7 جہاز آبنائے ہرمز عبور کر سکے۔مارکیٹ انٹیلی جنس فرم کپلر کے مطابق موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے اور شپنگ کمپنیوں نے احتیاطی رویہ اختیار کر رکھا ہے، جس کے باعث روزانہ صرف 10 سے 15 جہازوں کی محدود آمد و رفت ممکن ہو سکتی ہے، وہ بھی اس صورت میں جب جنگ بندی برقرار رہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 600 سے زائد جہاز، جن میں 325 آئل ٹینکرز شامل ہیں، خلیجی پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا ذریعہ ہے، جبکہ عام حالات میں یہاں سے روزانہ 120 سے 140 جہاز گزرتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کر رہا اور جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں ناکام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ بندی اور مزید کشیدگی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ادھر متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ایڈناک کے سربراہ سلطان احمد الجابر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تک رسائی مکمل طور پر آزاد نہیں بلکہ محدود اور مشروط ہے، جو عالمی بحری اصولوں سے مختلف صورتحال پیدا کرتی ہے۔جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں وقتی کمی دیکھی گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں دوبارہ اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔