آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ، ایران نے عراق کو آمد و رفت کی کھلی اجازت دے دی

آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ، ایران نے عراق کو آمد و رفت کی کھلی اجازت دے دی

ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ عراق کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں ہوگا اور عراقی جہاز بلا روک ٹوک یہاں سے آمد و رفت کر سکیں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے سبب دنیا بھر میں توانائی کے بحران کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق عراق نے جنگ کے دوران ایران کا ساتھ دیا، اس لیے تہران نے فیصلہ کیا ہے کہ عراقی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل اجازت دی جائے گی۔ الجزیرہ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے عراق کے لیے یہ راستہ کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔آئی آر جی سی کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ عراقی عوام جنگ کے دوران ایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے، اس لیے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد تمام پابندیوں سے آزاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر ایران پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قومی خودمختاری پر حملوں میں خواتین، بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی خدمات کے اداروں کو بھی نقصان پہنچا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا یا کوئی معاہدہ نہ کیا گیا تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اگر مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو گئی تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔