سینئر سیاست دان سردار ذوالفقار علی کھوسہ انتقال کر گئے

20 اکتوبر 1935 کو پیدا ہوئے، سینیٹر، ایم پی اے اور گورنر پنجاب رہے 
ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ) پنجاب کے سینئر سیاست دان، کھوسہ قبائل کے چیف سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ 91 برس کی عمر میں چند ہفتے علالت کے بعد انتقال کر گئے چیف سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ  20 اکتوبر 1935 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے،انہوں نے ابتدائی تعلیم 1941 سے 1946 تک  کوئین میری کالج لاہور میں حاصل کی، جبکہ 1946 سے 1954 تک ایچی سن (چیفز کالج) لاہور میں زیرِ تعلیم رہے جہاں  سیاسی شعور اور اقتدار کے مزاج کو قریب سے دیکھا وہ کھوسہ قبائل ، کے چیف سردار تھے جو ایک بڑابلوچ قبیلہ ہے اور پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں پھیلا ہوا ہیان کے تین بیٹے سردار حسام الدین خان کھوسہ ،سردار سیف الدین خان کھوسہ اور سردار دوست محمد خان کھوسہ  ہیں، جن میں سب سے چھوٹے بیٹے  سردار دوست محمد خان کھوسہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے 1962 سے سیاست کا عملی آغاز کیا جب جنرل ایوب خان کا صدارتی نظام چل رہا تھا   سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ  پہلی بار 1962 میں 26 سال کی عمر میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس وقت ایوان کے کم عمر ترین رکن اسمبلی تھے،وہ مسلسل 9  مرتبہ 1962 سے 1965 تک   مغربی پاکستان اسمبلی ،پہلی بار9 اپریل 1977 سے 5 جولائی 1977 تک،دوسری بار12 مارچ 1985 سے 30 مئی 1988 تک،تیسری بار30 نومبر 1988 سے 6 اگست 1990 تک  ،چوتھی بار5 نومبر 1990 سے 28 جون 1993 تک  ،پانچویں بار18 اکتوبر 1993 سے 17 نومبر 1996 تک،چھٹی بار18 فروری 1997 سے11 اگست 1999 تک اور 3جولائی 2008 سے 12 مارچ 2012 تک   پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے 18 اگست 1999 سے 12 اکتوبر1999 پنجاب کے 31 ویں گورنر منتخب ہو ئیاور  12 مارچ 2012 سے 12 مارچ 2018 تک پنجاب کی سیٹ سے سینیٹر منتخب ہو ئے 1993سے 2018 تک  (ن) لیگ سے وابستہ رہے  اور وہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں سے سمجھے جاتے تھے ،2018سے 2023تک پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہے  ،اپنی زندگی کا آخری الیکشن بھی آزاد لڑا  اور ہار گئے انہوں نے صوبے میں بطور وزیر مختلف ادوار میں اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں تعلیم، آبپاشی و توانائی، مواصلات و تعمیرات (C&W)، خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی (P&D)، بلدیات اور دیہی ترقی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سینئر وزیر اور سینئر مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے،انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لا کے نفاذ تک صوبہ پنجاب کے گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں ،انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کیے اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کی،انہیں کھیلوں سے خصوصی دلچسپی تھی، خصوصاً کرکٹ، ہاکی اور ایتھلیٹکس سے۔ وہ کالج کی ٹیم کے کپتان بھی رہے۔