اسرائیل کی جانب سے غزہ، شام اور لبنان میں قائم کئے جانے والے حفاظتی علاقے اس کی سٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں
چھ اسرائیلی فوجی اور دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے یہ اقدامات ملک کو مستقل جنگ کی حالت میں رکھنے کے منصوبے کا حصہ ہیں:رائٹر
تل ابیب، لندن(آئی این پی ) امریکا اور ایران جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کی آڑ میں اسرائیل اپنے پڑوسی ممالک کی زمین پر مزید قبضہ کر کے مشرقِ وسطی میں ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ، شام اور اب لبنان میں قائم کیے جانے والے بفر زونز یعنی حفاظتی علاقے اس کی اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔برطانوی خبر رساں ا دارے رائٹر کی رپورٹ کے مطابق چھ اسرائیلی فوجی اور دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدامات ملک کو مستقل جنگ کی حالت میں رکھنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔اسرائیلی قیادت کا ماننا ہے کہ ڈھائی سالہ تنازع کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ حزب اللہ، حماس اور خطے میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماہر نیتھن بران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے رہنما اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف ایک ایسی جنگ میں ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوگی، اس لیے وہ اب دشمن کو ڈرانے اور منتشر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران پر حملے روکنے پر حامی بھر لی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اپنی مہم نہیں روکے گا۔اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریبا 8 فیصد حصے پر قبضہ کر کے اسے بفر زون بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اسرائیلی سرحدی قصبوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام کا اعلان کر دیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے میں 34 نئی بستیوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے ۔ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ نئی اسرائیلی بستیوں کی منظوری دی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں مجموعی طور 103 نئی اسرائیلی بستیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔