دنیا کی تاریخ میں چند ہی ریاستیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی مسلسل محنت، ادارہ جاتی استحکام اور طویل المدت حکمتِ عملی کے ذریعے عالمی طاقت کا درجہ حاصل کرتی ہیں۔ امریکہ بھی انہی ممالک میں شامل رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس نے عالمی معیشت، بین الاقوامی سیاست، فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ایسا مقام حاصل کیا کہ دنیا کی سمت متعین کرنے میں اس کا کردار فیصلہ کن سمجھا جانے لگا۔ ایک وقت تھا وائٹ ہائوس سے جاری ہونے والا ایک بیان عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا دیتا تھا، کئی ممالک کی پالیسیوں کا رخ بدل دیتا تھا اور بعض اوقات پوری دنیا کے امن یا جنگ کے فیصلے اسی ایوان سے طے ہوتے تھے۔
لیکن عالمی طاقتوں کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں، معیشت یا ٹیکنالوجی سے برقرار نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے دانشمندانہ قیادت اور متوازن حکمتِ عملی ضروری ہوتی ہے۔ جب قیادت میں جذبات، جلد بازی یا سیاسی مفادات غالب آ جائیں تو عظیم ترین طاقتیں بھی کمزور دکھائی دینے لگتی ہیں۔ یہی وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جب ایک طاقتور ریاست اپنی ہی پالیسیوں کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے۔ بہت سے عالمی مبصرین کے مطابق ایسا ہی ایک مرحلہ اس وقت پیدا ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی خارجہ پالیسی زیادہ جارحانہ اور غیر متوقع انداز اختیار کرنے لگی۔ اس دور میں سفارت کاری کی جگہ دھمکیوں اور معاشی دباؤ نے لینا شروع کیا، جس کے اثرات نہ صرف امریکہ کے مخالفین بلکہ اس کے اتحادیوں تک محسوس کیے جانے لگے۔
اس عالمی کشیدگی کے مرکز میں ایران ہے، ایک ایسا ملک جو کئی دہائیوں سے معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور سیاسی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی داخلی معیشت کو سنبھالنے، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ایران کی حکمتِ عملی روایتی جنگ کے بجائے ایک غیر متوازن دفاعی ماڈل پر مبنی رہی ہے جس میں میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیتیں اور خطے میں مختلف اتحادی نیٹ ورکس کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی براہِ راست تصادم کو صرف ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی اور سیاسی بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس کشیدگی کا سب سے حساس پہلو توانائی کی عالمی ترسیل ہے۔ خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ یورپ، ایشیا اور عالمی معیشت پر فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازع نے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی منڈیوں کی بے چینی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اس بحران نے ایک اور اہم حقیقت کو بھی نمایاں کیا ہے کہ جدید جنگ کا انداز تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ روایتی فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ ڈرون جنگ، میزائل ٹیکنالوجی، سائبر حملے اور معاشی دباؤ مستقبل کی جنگوں کے بنیادی عناصر بنتے جا رہے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے اس رجحان کو مزید واضح کر دیا ہے۔ خطے میں ہونے والے حملے اور جوابی کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی
ہیں کہ مستقبل کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت اور معلومات کے میدان میں بھی لڑی جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اس تنازع کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں کیونکہ اس جنگ کے نتائج عالمی سلامتی کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں ایک حقیقت یہ بھی واضح ہے امریکہ کا عالمی نظام میں مقام ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس کی معیشت، ٹیکنالوجی اور فوجی اثر آج بھی دنیا کے طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر مسئلہ اکثر طاقت کے کمزور ہونے کا نہیں بلکہ قیادت کے فیصلوں کا ہوتا ہے۔ جب سیاسی قیادت حکمت اور تدبر کے بجائے جذباتی یا غیر ذمہ دارانہ فیصلے کرنے لگے تو طاقتور ترین ممالک بھی اپنی ساکھ کھونے لگتے ہیں۔
اسی تناظر میں جنوبی ایشیا کی ایک مثال بھی سامنے آتی ہے جہاں نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ایک وقت یہ سمجھ لیا کہ وہ اپنی معاشی طاقت اور مہنگے ترین جدید ہتھیاروں کی بنیاد پر پاکستان کو دباؤ میں لے آئے گا۔ عالمی اسلحہ منڈیوں سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خرید کر طاقت کے اظہار کی کوشش کی گئی، مگر جب زمینی حقیقت کا سامنا ہوا تو صورتحال اس کے برعکس نکلی۔ پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر دفاعی جواب نے نہ صرف اس تصور کو چیلنج کیا بلکہ عالمی سطح پر اس تاثر کو بھی کمزور کیا کہ صرف معاشی طاقت ہی جنگی برتری کی ضمانت ہوتی ہے۔
اسی طرح آج مشرقِ وسطیٰ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس نے بھی ایک نئی حقیقت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف United States اور Israel جیسے طاقتور ممالک ہیں جو معاشی اور دفاعی لحاظ سے دنیا کی بڑی قوتوں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف Iran ہے جو دہائیوں سے پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی حکمت عملی کے ذریعے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری کشیدگی اور مسلسل جوابی کارروائیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں صرف طاقت کا توازن فیصلہ کن نہیں ہوتا بلکہ حکمتِ عملی، صبر اور طویل المدت منصوبہ بندی بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ بڑی طاقتوں کی اصل عظمت صرف جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں ہوتی ہے۔ اگر عالمی قیادت خصوصاً امریکہ اس نازک موقع پر طاقت کے بجائے حکمت، تدبر اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تنازع کو مذاکرات کی میز تک لے آئے تو نہ صرف اپنی عالمی ساکھ کو محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک ممکنہ تباہ کن بحران سے بھی بچا سکتا ہے۔
آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ قیادت کی بصیرت میں طے ہوں گے۔ اگر انا، طاقت کے بے قابو استعمال اور جلد بازی کو ترجیح دی گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ لیکن اگر عقل، تحمل اور سفارت کاری کو راستہ بنایا گیا تو یہی بحران عالمی استحکام کے لیے ایک نئے توازن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو جنگ کے شور میں بھی عقل کی آواز سننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔