بھارت ،افغانستان گٹھ جوڑ اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی

 فرخ ریاض بٹ 

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا۔گزشتہ دنوں وانا کیڈٹ کالج پردہشت گردوں کا حملہ ایک مختلف مگر اتنا ہی خطرناک پیغام رکھتا ہے۔ دہشت گردی کا یہ انداز بتاتا ہے کہ دشمن اب تعلیمی اور عسکری تربیت کے مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے، کیڈٹ کالج پاکستان کے مستقبل کے محافظوں کی نرسری ہے۔ ان اداروں پر حملہ دراصل پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ یہ ملک اپنی نئی نسل کو خوف میں مبتلا کرے،دہشت گردی کے اس دور میں یہ پہلو سب سے تشویشناک ہے کہ دشمن نے اپنی حکمت عملی کو نفسیاتی جنگ میں بدل دیا ہے، جہاں مقصد صرف قتل نہیں بلکہ اُمید کا قتل ہے۔ پاکستانی ریاست اور عوام دونوں اس حقیقت سے واقف ہیں کہ دہشت گردی کی یہ لہر اچانک نہیں اٹھی اس کے پیچھے وہی پرانے زخم، ناتمام جنگیں اور غیر متوازن تعلقات ہیں جن کا محور افغانستان رہا ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال نے پاکستان کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔افغانستان نے اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا دی ہے اور اب تو صورتحال یہ ہے کہ وہ بھارت کی پراکسی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بھارت، جو افغانستان میں برسوں سے سرمایہ کاری اور سیاسی اثر و رسوخ پیدا کرتا آیا ہے، اب وہاں سے پاکستان کے خلاف ایک خاموش مگر خطرناک محاذ چلا رہا ہے۔بھارت کی اس پراکسی پالیسی کا مقصد پاکستان کو عسکری میدان میں الجھائے رکھنا، اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور اس کے اندرونی استحکام کو کھوکھلا کرنا ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ براہ راست جنگ ممکن نہیں، اس لیے وہ غیر ریاستی عناصر، میڈیا نیٹ ورکس اور سفارتی دباؤ کے ذریعے پاکستان کے اندر اضطراب پیدا کرتا ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت، چاہے دانستہ ہو یا مجبوری کے تحت، اس کھیل میں حصہ بن چکی ہے۔
افغانستان کے اقتدار پر قابض افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا ہے۔ پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیںان میں کسی نہ کسی حوالے سے افغانستان اور افغان باشندے شامل رہے ہیں۔  پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی افغانستان نے پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ اور جارحانہ اقدامات شروع کر دیئے تھے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے سے لے کر ڈیورنڈ لائن کو متنازعہ بنانے تک، افغانستان کا وطیرہ چلا آرہا ہے۔پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جو افغانستان کے ساتھ ساتھ ہیں، وہاں افغان حکومت نے منفی پراپیگنڈے کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع کر دیا تھا۔کبھی پشتونستان اسٹنٹ اور کبھی سرحد کے آرپار بسنے والے پشتونوں کو ایک بنا کر پیش کرنے کا پراپیگنڈہ بھی کیا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ پراپیگنڈے کسی بھی طرح پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی کو توڑ نہیں سکے۔ سردار دائود کے دور میں اس پراپیگنڈے میں بہت شدت آئی اور اس کے بعد بھی معاملات جوں کے توں ہی چلے آئے ہیں۔افغانستان طویل خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ اصولی طور پر تو افغانستان کی حکومتوں کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح وبہبود اور تعمیر وترقی کے بارے میں منصوبہ بندی کر کے اس پر عملدرآمد کرانا چاہیے۔لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی بھی افغان حکومت نے افغانستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام نہیں کیا۔
بھارت اور افغانستان کی موجودہ قربت، وسط ایشیائی خطے میں طاقت کی نئی تقسیم اور چین کے ساتھ پاکستان کے معاشی منصوبے یہ سب وہ عوامل ہیں جن سے دشمن خائف ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ سی پیک جیسے منصوبے ناکام ہوں، پاکستان کی اقتصادی رفتار رک جائے اور خطے میں اس کا اثر کم ہو۔ اس مقصد کے لیے وہ افغانستان کو ایک جغرافیائی اڈہ بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو اب صرف عسکری خطرے نہیں بلکہ معاشی و سفارتی سازشوں کا بھی سامنا ہے۔افغان طالبان اگر انھیں واقعی اسلام سے محبت ہوتی تو وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہندوتوا کے علمبردار اور بھارت میں مسلمانوں کی زندگی، عذاب بنا دینے والے بھارتی حکمرانوں کی گود میں جاکر نہ بیٹھتے۔ کیا انھوں نے کبھی بے گناہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم کرنے والی بھارتی فوج کے خلاف خودکش حملے کیے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ان کے حملوں کا نشانہ لاکھوں افغانوں کو قتل کرنے والے روسی یا ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے امریکی تو کبھی نہیں بنے، آخر ان کے حملوں کا نشانہ اسلام کے پیروکار، نماز روزے کے پابند اور ہر روز قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے مسلمان ہی کیوں بن رہے ہیں؟۔نریندر مودی حکومت سے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کرنا جسے پوری مسلم دنیا آج اپنی سلامتی کا محافظ تصور کرتی ہے، اس کے لیے نفع کا سودا ہوگا یا سراسر گھاٹے کا؟ بہرکیف افغانستان کسی بھول میں نہ رہے کہ پاکستان اب کسی کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گا، اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ ابھی وقت ہے افغانستان اپنی اوقات میں آجائے، کیونکہ اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ پیغام دشمن کے لیے واضح ہے کہ وطن کے خلاف کسی بھی بیرونی یا اندرونی سازش کو جڑ پکڑنے نہیں دیا جائے گا۔ اب پاکستان کے لیے اس ضمن میں سخت فیصلے کر نے کا وقت آن پہنچا ہے اور اسے اپنی آستین کے ان سانپوں کے سر کو کچلنے کی ضرورت ہے۔افغانستان کے حکمرانوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بھارت کے ساتھ دوستی کے خواب پاکستان کی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے چاہیں، ورنہ وہی خواب ان کے لیے ڈراؤنا انجام بن جائیں گے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات برابری، باہمی احترام اور اسلامی اخوت کے اصولوں پر استوار ہوں، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب کابل اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرے، بھارت کے فریب سے باہر نکلے اور پاکستان کے احسانات کو یاد رکھے۔