نارتھ کراچی میں مبینہ حادثے کے بعد ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں پولیس نے 5 مقدمات درج کر کے 19 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے گرینڈ آپریشن جاری ہے۔
یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نارتھ کراچی میں پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار نوجوان زخمی ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے پاور ہاؤس چورنگی اور فورکے چورنگی کے قریب 9 ڈمپروں اور واٹر ٹینکروں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں کو مکمل طور پر نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے، اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کا پس منظر:
یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو ٹکر مار دی، جس کے بعد علاقے کے مشتعل افراد نے اس حادثے کا بدلہ لینے کے طور پر ڈمپروں اور واٹر ٹینکروں کو آگ لگا دی۔ پولیس کے مطابق، یہ جلاؤ گھیراؤ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے علاقے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ جب ڈمپر کی ٹکر سے نوجوان زخمی ہوا، اس کے بعد ہی شہریوں نے پورے علاقے میں توڑ پھوڑ شروع کی اور مختلف گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
پولیس کی کارروائی:
پولیس نے واقعے کے فوراً بعد سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل فون ویڈیوز اور دیگر ذرائع سے تحقیقات کا آغاز کیا اور 19 ملزمان کو گرفتار کیا۔ ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے، جن میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے گرینڈ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جس کا مقصد علاقے میں انتشار پھیلانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے پاس اس حوالے سے کافی معلومات اور ویڈیوز موجود ہیں، اور امید ہے کہ اس ایکشن کے بعد ایسی سرگرمیاں دوبارہ نہیں ہوں گی۔
واقعے میں ملوث دیگر افراد:
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق، پولیس نے اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے ہیں اور انویسٹیگیشن کے دوران ملزمان کی شناخت کے لیے مزید فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے میں ملوث افراد نے مرکزی سڑک کو ٹارگٹ کیا اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران ایک نجی ریسٹورنٹ پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے حملے کو ناکام بنایا اور مزید نقصان ہونے سے بچایا۔
ڈمپروں اور واٹر ٹینکروں کے مالکان کا موقف:
ڈمپروں اور واٹر ٹینکروں کے مالکان کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور یہ حملے کسی مخصوص گروہ کی جانب سے کیے گئے ہیں تاکہ لسانی نوعیت کا رنگ دیا جا سکے۔ ان مالکان کا کہنا تھا کہ اگرچہ زبان مختلف ہو سکتی ہے، لیکن تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں اور ہمیں ان واقعات کو آپس میں لڑانے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔
پولیس کی مزید کارروائی:
ڈی آئی جی ویسٹ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ پولیس نے تمام ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے گرفتار کیا ہے اور مزید سی سی ٹی وی فوٹیجز اور انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر گرفتاریوں کا عمل جاری ہے۔ پولیس نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس واقعے میں جلاؤ گھیراؤ میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں، اور اس حوالے سے نمونے لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں تاکہ اس بات کا پتا چلایا جا سکے کہ آیا اس میں کسی قسم کا خطرناک کیمیکل استعمال کیا گیا تھا۔
پولیس کا پیغام:
پولیس حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کوشش ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ علاقے میں امن قائم رکھا جا سکے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔