کم آمدنی والے ممالک میں صورتحال سنگین ، بہتر سماجی تحفظ میں سرمایہ کاری کا وقت آگیا ہے، عالمی بینک
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) عالمی بینک نے کہا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہر 4میں سے 3افراد اب ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جو یا تو سماجی تحفظ کی منتقلی سے مستفید ہوتے ہیں یا شراکت کے ذریعے سماجی تحفظ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی جاری کردہ اسٹیٹ آف سوشل پروٹیکشن رپورٹ 2025 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پچھلی دہائی کے دوران، کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک نے ریکارڈ 4.7 ارب افراد کا احاطہ کرنے کے لیے سماجی تحفظ کو وسعت دی ہے جو معمولی بات نہیں ہے، تاہم کوریج میں ریکارڈ اضافے کے باوجود کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اب بھی 1.6 ارب افراد کو سماجی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ نمایاں پیش رفت کے باوجود سماجی تحفظ تک رسائی بہت زیادہ لوگوں کے لیے ایک حقیقت کے بجائے خواہش بنی ہوئی ہے، اور موجودہ شرح نمو میں انتہائی غربت میں رہنے والوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کا مکمل احاطہ کرنے میں 18سال اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے غریب ترین 20فیصد گھرانوں کے لیے مزید 20سال لگیں گے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں صورتحال خاص طور پر سنگین ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر سماجی تحفظ میں سرمایہ کاری کرنے کا وقت اب آگیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، خوراک کے عدم تحفظ، تنازعات اور نقل مکانی کے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، غربت اور کمزوری کی سطح کو بڑھا رہے ہیں اور سماجی تحفظ اور لیبر مارکیٹ کے پروگراموں کی مانگ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات سماجی تحفظ کی خدمات کی طلب اور تشکیل کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، کام کی بدلتی ہوئی نوعیت، اور تیز رفتار سبز منتقلی کی ضرورت روزگار میں گہری تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے جس کے لیے لیبر مارکیٹ کے پروگراموں میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔