دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اہم خارجہ اُمور پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں، اور حالیہ دنوں امریکا کی جانب سے درآمدی ٹیرف میں تیز رفتار تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں وزیرِاعظم نے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے تاکہ ان تبدیلیوں کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے اور پاکستان کے تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ترجمان نے وزیرِاعظم کے آئندہ دورۂ بیلاروس کے حوالے سے بھی اہم معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم دو روزہ سرکاری دورے پر آج بیلاروس روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مضبوط شراکت داری اور تعاون کے عزم کا مظہر ہے، اور اس سے مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ حال ہی میں نمائندہ خصوصی نے کابل کا ایک اہم دورہ کیا جس میں مختلف باہمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ترجمان شفقت علی خان نے امریکا میں تعلیمی ویزوں کی معطلی کی اطلاعات پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان خبروں کا نوٹس لیا گیا ہے اور پاکستان اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ اپنے طلبہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔فلسطین کے حوالے سے انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کے اصولی مؤقف کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور ان کے جائز حقوق کی عالمی سطح پر وکالت کرتا رہے گا۔