اسلام آباد: گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وفاق کو 2019 کے مجوزہ آرڈر میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ دوسرا آرڈر تیار کرے لیکن کچھ تو کرے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اس معاملے کو قانون سازی کے ذریعے حل کر سکتی ہے۔سماعت کی قیادت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ کر رہا تھا، جس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان منظور نے عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے بتایا کہ وہ مشروط طور پر اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔ تاہم، کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے وفاقی حکومت کو متنبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر وفاقی حکومت کو فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔عدالت کے مطابق، گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی میں تاخیر کی وجہ سے سپریم اپیلیٹ کورٹ میں آٹھ ہزار سے زائد کیسز زیر التواء ہیں، جو کہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہیں۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2019 کا مجوزہ آرڈر وفاقی حکومت کے لیے مناسب نہیں ہے، لیکن جسٹس جمال مندوخیل نے اس پر قانون سازی کرنے کا مشورہ دیا۔مقدمے میں مزید بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ عدالت نے کیس کو میرٹ پر سننے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔