طاقت، اسلحہ اور لیبیا ۔۔۔۔۔پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ دفاعی شراکت کوآگے بڑھارہاہے بلکہ خلیجی ریاستوںخصوصاسعودی عرب اورقطرکے ساتھ بھی سکیورٹی تعلقات کووسعت دے رہاہے۔ ستمبر 2025 کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جے ایف17کو پاکستان ایک کم لاگت، ملٹی رول فائٹراسٹریٹجک پروڈکٹ کے طورپرپیش کرتاہے ، جو مغربی سپلائی چین سے باہرتربیت، دیکھ بھال اورآپریشنل خودمختاری فراہم کرتاہے۔یہی پہلواسے ترقی پذیرریاستوں کیلئے پرکشش بناتاہے۔لیبیاکے ساتھ معاہدہ شمالی افریقا میں پاکستان کے اثرورسوخ کوبڑھاسکتاہے،جہاں عالمی طاقتیں تیل،سلامتی اورسیاست کیلئے صف آراہیں۔خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی روابط،پاکستان سعودی عرب اورقطر کے ساتھ دفاعی تعاون کووسعت دے رہاہے۔ستمبر2025میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی رجحان کی مثال ہے،جوپاکستان کوایک علاقائی سیکورٹی شراکت دارکے طورپرپیش کرتاہے۔
لیکن ایک سوال ابھرکرسامنے آتاہے:کیاعالمی اسلحہ سازاجارہ داریاں اس سودے کواپنے لیے چیلنج سمجھیں گی؟تاریخ گواہ ہے کہ جہاں طاقت کاتوازن بگڑتاہے،وہاں سازشوں کے سائے بھی گہرے ہوجاتے ہیں۔اوریوں،ایک طیارہ جوریڈارسے غائب ہوا،شایدمحض ایک حادثہ نہ تھابلکہ عالمی سیاست کے افق پرایک ایسی لکیرتھی جوطاقت،مفاداورتاریخ کے پیچیدہ رشتے کوعیاں کرگئی۔بین الاقوامی سیاست میں یہ امربعیدازقیاس نہیں کہ بڑی اسلحہ ڈیلزکے بعدسیاسی دبا،قانونی پیچیدگیاں یابالواسطہ مزاحمت سامنے آئے۔تاریخ ایسے
واقعات کی مثالوں،سازشی بیانیے اورتاریخی نظائرسے خالی نہیں۔
شمالی افریقامیں پاکستان کاابھرتا کردار۔۔۔۔۔۔۔۔لیبیاکے ساتھ معاہدہ شمالی افریقامیں پاکستان کے قدم جمانے کی کامیاب کوشش ہے،جہاں عالمی اورعلاقائی طاقتیں تیل،سلامتی اور اثر و رسوخ کیلئیمسابقت میں ہیں۔یہ معاہدہ عالمی اسلحہ سازکمپنیوں کیلئیایک ممکنہ چیلنج بن سکتا ہے،خصوصا ان کمپنیوں کیلئے جوروایتی طورپرافریقی منڈیوں پرحاوی رہی ہیں۔لیبیا کے عسکری سانحے اورپاکستان۔لیبیادفاعی معاہدے نے خطے کی سلامتی،عالمی اسلحہ سیاست اوراقوام متحدہ کی پابندیوں کی افادیت پرنئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔پاکستان کیلئے یہ معاہدہ ایک معاشی اوراسٹریٹجک موقع ہے،مگراس کے ساتھ قانونی شفافیت،سفارتی توازن اورطویل المدت علاقائی اثرات پرمسلسل نظررکھناناگزیرہوگا۔
لیبیامیں عسکری قیادت کے حالیہ فضائی حادثے اورپاکستان۔لیبیادفاعی معاہدے نے بیک وقت علاقائی سلامتی،عالمی اسلحہ سیاست،اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی عملی حیثیت کو ایک نئے زاویے سے نمایاں کردیاہے۔یہ پیش رفت پاکستان کیلئیمعروف معاشی،اسٹریٹجک اورسفارتی مواقع بھی رکھتی ہے اورقانونی،سیاسی اورخطے میں تیزی سے ابھرتی ساکھ جیسی نوعیت کے خطرات بھی۔
پاکستان کی دفاعی صنعت پہلی بارشمالی افریقامیں ایک نمایاں اوربراہِ راست اسٹریٹجک کھلاڑی کے طورپرابھررہی ہے،تاہم لیبیاکی داخلی تقسیم،بین الاقوامی اجارہ داراسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات،اوراقوام متحدہ کی غیرمثرمگرموجودپابندیاں اس عمل کوحساس بنا دیتی ہیں۔فیصلہ سازوں کیلئے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اقتصادی فائدے اورعالمی قانونی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھاجائے۔عسکری برآمدات کو سفارتی تنہائی کاسبب نہ بننے دیا جائیاورپاکستان کوایک ذمہ دار،قابلِ اعتماداوراصولی دفاعی شراکت دارکے طورپرپیش کیا جائے۔
یقینااس نئی صورتحال پردفاعی مقتدرادارے بڑی تندہی سے موجودہ حالات میں اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں مصروفِ کارہوں گے مگر ان حالات میں  قانونی شفافیت اوردستاویزی تحفظ پرچندآراپرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔
٭:اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کودفاعی معاہدوں کے ہرمرحلے میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندیوں سے متعلق قانونی رائے کو تحریری صورت میں محفوظ رکھناچاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بین الاقوامی فورم پرمؤقف کمزورنہ ہو۔قانون اگرچہ پابندی کوغیر مثرقراردیاجاچکاہے،تاہم پاکستان کواقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ  بیک ڈورڈپلومیسی چینل کے ذریعے پیشگی رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ تنازعے سے بچاجاسکے۔
٭معاہدوں کوریاستی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بنانے کیلئے دفاعی تعاون کوشخصیات یادھڑوں کے بجائے اداروں سے منسلک رکھاجائے، تاکہ لیبیاکی داخلی سیاست میں تبدیلی کی صورت میں معاہدے غیرمؤثرنہ ہوں۔
٭پاکستان کومشرقی لیبیاــایل این اے‘‘کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ مغربی لیبیاکی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت سے سفارتی توازن برقراررکھناچاہیے،تاکہ کسی ایک فریق کا حلیف تصورنہ کیاجائے۔
٭دفاعی برآمدات کے ساتھ"صلاحیت کی تعمیر"کیلئے صرف ہتھیاروں کی فروخت کے بجائے تربیت،مینٹیننس،تکنیکی معاونت کو پیکیج کاحصہ بنایاجائے،تاکہ پاکستان کاکردار طویل المدت شراکت دارکابنے۔
٭جے ایف17محض طیارہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک برانڈکے طورپرپیش کرناضروری ہے اورحالیہ پاک بھارت جھڑپ نے اقوام عالم کو انہی طیاروں کے استعمال سے پاکستانی عسکری تربیت اوربرتری نے ورطہ حیرت میں ڈال دیاہے۔اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان ان طیاروں اوردیگرفوجی وسازوسامان کوکم لاگت کے ساتھ خودانحصاری کی علامت کے طورپر مارکیٹ کیاجائے۔
٭لیبیاسے متعلق پالیسی کوسعودی عرب،قطراورمتحدہ عرب امارات کے ساتھ غیررسمی مشاورت کے ذریعے ہم آہنگ رکھاجائے تاکہ علاقائی تضادات سے بچاجاسکے۔
٭پاکستان کوایک واضح دفاعی برآمدات کیلئے"نیشنل آرمزایکسپورٹ پالیسی فریم ورک"قومی فریم ورک تشکیل دیناچاہئے جہاں انسانی حقوق،داخلی استحکام اوربین الاقوامی قانون کوباضابطہ معیاربنایاجائے۔
٭عالمی میڈیااورتھنک ٹینکس میں پاکستان کے کردارکوذمہ دار،قانونی اوراستحکام پسندکے طورپراجاگرکرنے کیلئیاسٹریٹجک کمیونیکیشن پلان تشکیل دیاجائے۔
٭غیرریاستی دباکے امکانات کی پیش بندی اورعالمی اسلحہ سازاجارہ داریوں کے ممکنہ دباکیپیش نظرقانونی ٹیم،سفارتی نیٹ ورک اورتجارتی اتحادی کوپیشگی متحرک رکھاجائے۔
مندرجہ بالا تمام بروقت اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں ان رسک اسیسمنٹ کی طرف بھی توجہ دینے کی اشدضرورت ہے۔ہمیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تشریح،تحریری قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ سفارتی خطرات یعنی مغربی طاقتوں یاانسانی حقوق گروپس کی تنقیدکابھی سامناکرناپڑسکتاہے جس کیلئے پیشگی مثربیانیہ سازی اورسفارتی وضاحت کی مکمل تیاری از حد ضروری ہے۔
لیبیامیں اقتدارکی تبدیلی کوسیاسی خطرات کے طورپرپیش کرکیاس معاہدے کوسبوتاژکرنے کی کوشش کی جائے گی جس کیلئے ادارہ جاتی معاہدے،یکطرفہ وابستگی سے گریزکیلئے ہتھیاروں کاغیرریاستی عناصرتک پہنچنے کاواویلاکیاجائے گاجبکہ دنیابھرمیں ہونے والی دہشتگردی میں استعمال ہونے والااسلحہ کن ممالک کااستعمال ہورہاہے،اس کابھی ہم سب کو علم ہے۔دورنہ جائیں،ہمارے پڑوس افغانستان سے آنے والے خوارج اورفتنہ الہندکے تمام دہشتگردوں کے پاس برآمدہونے والا تمام جدیدترین امریکی اسلحہ اس بات کاعملی ثبوت ہے۔ 
ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے عالمی سودوں کی ادائیگی کیلئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کاپلیٹ فارم استعمال کیاجاتاہے اورعین ممکن ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے عالمی طاقتوں کے دباؤکے تحت پہلے تومعاہدے کی معطلی پرزورڈالیں،اوراگروہ اس میں کامیاب نہ ہوسکیں توادائیگیوں میں تاخیرکرکے ان معاہدوں کوغیرمعمولی نقصان پہنچا نے کی پالیسی اختیار کرلیں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان مرحلہ وارڈیلیوری کے ساتھ ساتھ ایسامالی ضمانتوں کابھی لائحہ عمل تیاررکھے جس سے ان معاہدوں کی افادیت کومتوقع نقصان سے محفوظ رکھاجاسکے۔
ماضی کے تجربات سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارادشمن ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھرپاکستان کانام غیرمستحکم ریاستوں سے جوڑنے کی کوشش کرے گااورپاکستان کے متعلقہ اداروں کوابھی سے پیشگی طورپرایک ذمہ دارریاست کامضبوط بیانیہ تیاررکھناہوگا۔اس اہم کام کیلئے انہیں عالمی طاقتوں کی پراکسی سیاست کے مقابلے اورتدارک کیلئے غیر جانب دار،کثیرجہتی سفارت کاری کیلئے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کیلئے ابھی سے پوری تیاری کی ضرورت ہے۔
لیبیاکاسانحہ اوردفاعی معاہدہ محض ایک حادثہ یاایک سودا نہیں،بلکہ یہ اکیسویں صدی کی اسلحہ سیاست،ریاستی خودمختاری،اورعالمی طاقت کے بدلتے توازن کی علامت ہے۔پاکستان کیلئییہ ایک موقع بھی ہے اورامتحان بھی۔اگردانش مندی،قانونی احتیاط اورسفارتی توازن کے ساتھ قدم اٹھایاگیاتویہ معاہدہ پاکستان کوایک ذمہ دارعالمی دفاعی شراکت دارکے طورپرمستحکم کرسکتاہے بصورت دیگریہ عالمی  سیاست کی ناہموارزمین پرایک لغزش بھی ثابت ہوسکتاہے۔