خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری سکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کے قریب دو مختلف بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
میری ٹائم ذرائع کے مطابق ایک جہاز نے اطلاع دی کہ اس پر ایران کے ساحل سے تقریباً 8 ناٹیکل میل (15 کلومیٹر) مغرب میں فائرنگ کی گئی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس سے چند گھنٹے قبل ایک اور کارگو جہاز پر عمان کے قریب 15 ناٹیکل میل (28 کلومیٹر) شمال مشرق میں فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں جہاز کے کنٹرول روم کو شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ جہاز “ایم ایس سی فرانسسکا” تھا، جو دمام سے سنگاپور جا رہا تھا۔ایران کی سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی ’سمندری قوانین کے نفاذ‘ کے تحت کی گئی، کیونکہ متعلقہ جہاز نے جاری کردہ وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔خطے میں جاری صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے United States اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ کشیدگی کم کر کے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔