’’تالاب چوری ‘ رپورٹ درج، ڈھونڈنے والے کو انعام ملے گا

لاہور(نیٹ نیوز): مال اور دولت کے چوری ہونے کا تو سب نے سنا ہوگا مگر یہاں تو تین تالاب چْرا لیے گئے اور رپورٹ تھانے میں درج کرا دی۔بعض اوقات ایسے انوکھے واقعات سننے، پڑھنے اور دیکھنے میں ا?تے ہیں کہ جن پر یقین نہیں ا?تا۔ خاص طور پر پڑوسی ملک بھارت سے ایسے دلچسپ واقعات سامنے ا?تے ہیں کہ انہیں جان کر حیرت ہوتی ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ ریوا ضلع کے ایک گاو?ں میں پیش ا?یا جہاں ایک دن قبل گاو?ں والوں نے تالاب سے مچھلی کا شکار کیا، لیکن دوسرے روز وہ وہاں پہنچے تو تالاب وہاں سے غائب تھے اور اس کی جگہ خشک میدان ان کا منہ چڑا رہے تھے۔اس حیران کن واقعہ کے بعد گاو?ں والوں نے ڈھول بجا کر تالاب چوری ہونے کی منادی کرتے ہوئے اس کو تلاش کرنے والوں کے لیے انعام دینے کا بھی اعلان کیا جب کہ اس کے ساتھ ہی لوگوں کو تنبیہہ بھی کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے کھیتوں کے قریب بنے تالابوں کی حفاظت خود کریں ورنہ وہ بھی چوری ہو سکتے ہیں۔ریوا گاو?ں کی پنچیایت کے بعد کچھ نوجوانوں نے ایک گروپ بنا یر چوری ہونے والے تالاب سمیت اطراف کے دیگر تالاب اور ڈیم والے تالابوں کے پاس پہرے داری بھی شروع کر دی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل بھی ہو رہی ہے۔اس حوالے سے ضلع کی پوروا منی رام پنچایت اور اس سے متصل املیا پنچایت میں گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ہم کل تک لبالب بھرے امرت سروور (بڑے تالاب) میں مچھلی پکڑتے تھے، لیکن صبح آئے تو تالاب غائب تھے، جن کو چْرا لیا گیا ہے۔ گاو?ں والوں نے اس انوکھی چوری کی متعلقہ تھانے میں شکایات بھی درج کرائی ہیں۔اب گاؤں والے تالاب کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پولیس پریشان ہے اور کلکٹر نے بھی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔تین مختلف افراد کی جانب سے درج کرائی گئی الگ الگ شکایات میں کہا گیا ہے کہ ان کے گاو?ں میں لاکھوں روپے کی مالیت سے امرت سروور (تالاب ڈیم) بنائے تھے، جو ایک روز پہلے تک موجود تھے اور وہ اس میں مچھلیوں کا شکار کرتے رہے ہیں، مگر ا?ج صبح پہنچے تو وہ غائب تھے اور ان کی جگہ حیران کن طور پر چٹیل میدان اور جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔اس سارے معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ گاو?ں میں کچھ جگہوں پر لاکھوں روپے کی لاگت سے تالاب اور ڈیم بنانے کا منصوبہ تھا اور ریونیو دستاویز میں یہ ڈیم اور تالاب دو سال قبل اگست 2023 میں مکمل بھی ہو چکے۔ تاہم حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ سرکاری عملے نے ایک نالے کے پاس مختلف مقامات پر مٹی ڈال کر اور ڈیم کی شکل دے کر اس تالاب ڈیم کا روپ دے دیا تھا، جو حالیہ طوفانی بارشوں میں بہہ کر غائب ہو گیا۔