لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے سیاست میں "اوئے توئے" اور گالم گلوچ کا کلچر متعارف کرایا، ان کی جماعت کا موجودہ طرزِ عمل سیاسی نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا بائیکاٹ دراصل راہِ فرار ہے، کیونکہ ایک طرف وہ الیکشن کمیشن سے کاغذات وصول کرکے پراسیس مکمل کرتے ہیں اور دوسری طرف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے ہی ممبران پر اعتماد نہیں، کئی اراکین ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے تھے مگر انہیں منع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بیرونی خطرات لاحق تھے تو بانی پی ٹی آئی سننے کو تیار نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کی کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاق رائے سے ممکن ہوئی، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے میثاق استحکام پاکستان کا پیغام دے کر قومی یکجہتی کو فروغ دیا، مگر بانی پی ٹی آئی اور ان کے حامی انتشار، فتنہ اور انارکی چاہتے ہیں۔ "خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھی وہی عناصر ہیں جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔"رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاست ہمیشہ مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں۔ "یہ کہا جاتا تھا کہ ہم این آر او نہیں دیں گے اور اسٹیبلشمنٹ بات کرنے نہیں دے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔"