صحافی طیب بلوچ پر تشدد کیا ،اعجاز احمد اور دیگر صحافیوں کو دھکے دئیے اور گالم گلوچ کی گئی
پی ٹی آئی کا معافی مانگنے اور واضع لائحہ عمل نہ دینے تک کوریج کا بائیکاٹ کرینگے:صحافی
راولپنڈی(آئی این پی ) توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان آپے سے باہر ہو گئے،اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں نے صحافیوں پر حملہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق اڈیالہ کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے صحافی طیب بلوچ پر تشدد کیا گیا، صحافی طیب بلوچ نے علیمہ خان سے سوال پوچھا تھا۔طیب بلوچ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے تشدد کرنیوالوں کے درمیان صحافی کمیونٹی اور کیمرہ مین ڈھال بنا کر طیب بلوچ کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔اعجاز احمد اور دیگر صحافیوں کو دھکے دئیے گئے اور گالم گلوچ کی گئی۔ اس کے علاوہ دو دن سے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا صحافیوں کو دھمکیاں دے رہا تھا۔صحافیوں نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کر دیا۔علیمہ خان کی ٹاک سے پہلے میڈیا نمائندگان پر تشدد کیا گیا۔ نجی چینلز کے سینئر رپورٹرفیصل حکیم اور رپورٹر طیب بلوچ سے ہاتھا پائی کی گئی۔ ایس پی صدر راولپنڈی، اے ایس پی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ۔پاکستان تحریک انصاف کے بیٹ رپورٹرز کا پی ٹی آئی کی تمام پریس کانفرنسز کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ بیٹ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کسی صورت قبول نہیں۔پی ٹی ائی کی جانب سے معافی سمیت صحافیوں کے حوالے سے واضع لائحہ عمل نہ دینے تک بائیکاٹ جاری رہے گا۔