ناروے کی نوبیل کمیٹی نے سال 2026 کا نوبیل امن انعام جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار نوی پلے کو دینے کا اعلان کردیا ہے۔
انہیں بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے فروغ کے لیے طویل خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نوبیل امن انعام کے حصول کی خواہش کے تناظر میں بھی اس اعلان کو خاص توجہ حاصل ہوئی ہے۔اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کروانے میں کردار ادا کیا اور وہ نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو ان کے بقول اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر انہیں امن انعام نہ دیا گیا تو نوبیل کمیٹی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم، نوبیل امن انعام کے لیے کمیٹی نے نوی پلے کا انتخاب کیا، جن کی زندگی انسانی حقوق کے تحفظ، نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد اور بین الاقوامی انصاف کے قیام سے وابستہ رہی ہے۔
نوی پلے کون ہیں؟
نوی پلے کا پورا نام نوی نوانیتھم پلے ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہوئیں اور نسلی امتیاز کے دور میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔ اپنے قانونی کیریئر کے دوران انہیں نسل پرستی کے باعث متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے قانون کو انصاف کے حصول اور انسانی حقوق کے دفاع کے لیے استعمال کیا۔
1967 میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے صوبے ناتال میں اپنا قانونی دفتر قائم کیا اور اس دور میں غیر سفید فام افراد کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بنیں، جو ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا۔نوی پلے نے بین الاقوامی سطح پر بھی اہم عدالتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ روانڈا میں نسل کشی سے متعلق بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی جج رہیں اور اس کی سربراہی بھی کی۔ اس دوران انہوں نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین معاملات میں بین الاقوامی انصاف کے فروغ کے لیے کام کیا۔وہ 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں۔ اس عہدے پر ان کی ذمہ داریوں میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی اور ان حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر کوششیں شامل تھیں۔
فلسطین اور میانمار سے متعلق معاملات میں کردار
نوی پلے حالیہ برسوں میں فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کام سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ غزہ سے متعلق کمیشن کی رپورٹ میں اسرائیل پر نسل کشی کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا، جسے اسرائیل نے مسترد کیا۔اس کے علاوہ نوی پلے میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے سے متعلق عالمی عدالت انصاف میں بھی ایڈہاک جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی قانونی اور عدالتی سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب رہا ہے۔
نوبیل کمیٹی کا اعلان اور تقریب
نوبیل امن انعام کا اعلان ناروے کی نوبیل کمیٹی نے کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فریڈنس نے اعلان کے موقع پر بتایا کہ وہ نوی پلے سے رابطہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ اگر انہیں ناروے کے نمبر سے فون آئے تو وہ اسے ضرور وصول کریں۔نوی پلے کو نوبیل امن انعام باضابطہ طور پر 10 دسمبر 2026 کو اوسلو میں منعقد ہونے والی تقریب میں دیا جائے گا۔نوبیل امن انعام کا آغاز 1901 میں ہوا تھا۔ یہ اعزاز دنیا میں امن، انسانی حقوق اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد اور اداروں کو دیا جاتا ہے۔ ماضی میں مدر ٹریسا، ملالہ یوسفزئی اور باراک اوباما بھی یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔نوی پلے کو نوبیل امن انعام 2026 دیے جانے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے اداروں کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات اور انسانی حقوق سے متعلق مسائل بدستور موجود ہیں۔