"نوبیل امن انعام: کیا ٹرمپ کی نامزدگی قابل غور ہے؟"

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

 انہوں نے نوبیل کمیٹی کے نام ایک خط میں کہا کہ ٹرمپ نے دنیا بھر میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے غیر معمولی عزم اور کردار کا مظاہرہ کیا۔ نیتن یاہو نے یہ خط سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا، جس پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

پاکستان بھی ٹرمپ کو نامزد کر چکا ہے
یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہو، اس سے قبل پاکستان بھی انہیں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کے تناظر میں نامزد کر چکا ہے۔

 نوبیل امن انعام حاصل کرنے کے لیے کون اہل ہوتا ہے؟
نوبیل انعام کے بانی الفریڈ نوبیل کی وصیت کے مطابق، یہ انعام ان افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے:

قوموں کے درمیان رفاقت کو فروغ دیا ہو،
ہتھیاروں کے خاتمے یا کمی کے لیے کام کیا ہو،
عالمی امن قائم کرنے یا بڑھانے کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔
اس لحاظ سے تمام زندہ افراد یا فعال ادارے جو امن کے فروغ میں عملی کام کر رہے ہوں، وہ نوبیل انعام کے اہل سمجھے جاتے ہیں۔

 کیا نیتن یاہو کی نامزدگی پر غور ہوگا؟
نہیں۔ نوبیل انعام کی نامزدگیاں ہر سال جنوری میں بند ہو جاتی ہیں، اور چونکہ نیتن یاہو نے جولائی 2025 میں یہ نامزدگی کی ہے، اس لیے اس سال اس پر غور نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ درخواست اب اگلے سال کی نامزدگیوں کے ضمن میں شمار کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ دیگر شرائط پوری کی جائیں۔

 نوبیل انعام کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟
ناروے کی نوبیل کمیٹی، جو پانچ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور جنہیں ناروے کی پارلیمنٹ مقرر کرتی ہے، امن انعام کے فاتح کا انتخاب کرتی ہے۔
کمیٹی کی تشکیل عام طور پر ریٹائرڈ سیاستدانوں یا انسانی حقوق کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
ہر سال فروری میں کمیٹی اپنا پہلا اجلاس کرتی ہے اور ہزاروں نامزدگیوں کا جائزہ لیتی ہے۔
پھر ماہرین اور مشیروں کی مدد سے ان نامزدگیوں کو فلٹر کیا جاتا ہے۔
کوشش کی جاتی ہے کہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہو، تاہم اگر اختلاف ہو تو ووٹنگ کے ذریعے بھی فیصلہ کیا جاتا ہے۔
فاتح کا اعلان اکتوبر میں کیا جاتا ہے، جبکہ ایوارڈ تقریب دسمبر میں ہوتی ہے۔
 اہم بات:
نوبیل انعام کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ انعام سیاستدانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، مذہبی رہنماؤں، بین الاقوامی تنظیموں، صحافیوں، ماحولیاتی کارکنوں اور سائنسدانوں تک کو بھی دیا گیا ہے، بشرطیکہ انہوں نے عالمی امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہو۔