لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’شارٹ ٹرم مارچ‘‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے باوجود مارچ کیا جا رہا ہے، جو ان کے بقول دہشت گردوں کے حق میں ہے۔اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک طرف دہشت گردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سہیل آفریدی کنٹینر پر کھڑے ہو کر مارچ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مارچ نہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے حق میں ہے اور نہ ہی پختون عوام کے مفاد میں ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، تاہم ان کے بقول سڑکوں پر جاری مارچ محفوظ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فورسز صوبے کے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مارچ کے دوران سیکیورٹی فورسز کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور دہشت گردوں کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کو بھی مارچ کی قیادت کرنے والے رہنما نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے متاثرہ صوبوں میں شامل ہے اور وہاں کی پولیس سمیت عام شہریوں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور عوام کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پی ٹی آئی کی حکومت اور اس کی قیادت سے نجات چاہتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوامی حمایت نہ ملنے کے بعد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ویڈیوز تیار کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔عظمیٰ بخاری کے یہ بیانات سہیل آفریدی کے مارچ اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے سیاسی تنقید کا حصہ ہیں۔ ان کے الزامات پر سہیل آفریدی یا پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف اس فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں ہے۔