سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر کی 27 درخواستوں پر سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی

سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر کی 27 درخواستوں پر سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد سمیت دیگر ارکان کو مبینہ طور پر اٹھائے جانے اور مقدمات کی تفصیلات فراہم نہ کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے درخواست گزاروں کے وکلا کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل محمد انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کو رات کے وقت اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن میں ان کے ارکان کو نامعلوم افراد مبینہ طور پر اٹھا رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق گزشتہ روز مردان سے ان کے ایک رکن جبکہ سوات سے صوبائی وزیر کو اٹھائے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا، تاہم انہیں اب تک مقدمات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھی گئے تھے، لیکن انہیں مطلوبہ معلومات نہیں مل سکیں۔آصف بابر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اسد قیصر نے چیف کمشنر اسلام آباد کو درخواست دی تھی، تاہم اس کے باوجود مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب پراسیکیوٹر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ 26 دسمبر 2025 سے زیر التوا ہے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس حوالے سے رپورٹ جمع کرائی جا چکی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ خیبر پختونخوا میں درخواست گزاروں کی اپنی حکومت ہے، اس کے باوجود اگر ارکان کو اٹھائے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے کو کیسے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیشتر ارکان اسلام آباد میں موجود ہیں، جہاں کے حالات کے حوالے سے متعلقہ حکام کو جواب دینا چاہیے۔جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ اگر ان درخواستوں کو معمول کے ڈویژن بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تو کیا ہوگا؟ اس پر محمد انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈویژن بینچ ان مقدمات کی سماعت کر سکتا ہے اور اس سے قبل بھی عدالت کی جانب سے ان درخواستوں پر کوئی مختلف رائے سامنے نہیں آئی۔درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں عدالت میں پیش ہونے تک گرفتار یا ہراساں نہ کیا جائے اور پہلے سے حاصل عبوری ریلیف برقرار رکھا جائے۔

بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے درخواست گزاروں کو تین دن کے اندر چیف کمشنر اسلام آباد سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر مقررہ مدت کے اندر درخواستیں جمع کرا دی گئی تھیں۔ ان کے مطابق عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مقررہ مدت کے اندر درخواست دینے والوں کے حکمِ امتناع میں توسیع ہوگی۔اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ عدالت اسلام آباد کے حکام کو براہِ راست حکم جاری کرنے کے معاملے میں اپنے دائرۂ اختیار کو مدنظر رکھے گی۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مزید سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی اور ہدایت کی کہ آئندہ تاریخ پر تمام وکلا مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔ عدالت نے واضح کیا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور مقدمات پر فیصلہ کیا جائے گا۔