پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ ایک ریاست میں دو قانون نہیں چل سکتے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار بھی پیپلز پارٹی کو ٹھہرایا۔پشاور کے کوہاٹی گیٹ پر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کے عوام نے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ پر پختونوں کے خلاف بیان دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر تنقید کی۔سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ بلاول بھٹو زرداری کے والد خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بلاول بھٹو زرداری کے نانا اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے ’’ادھر تم، ادھر ہم‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد کی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ پشاور میں کبوتر چوک، رنگ روڈ پہنچ گیا، جہاں کارکنوں کو شام 7 بج کر 30 منٹ تک پہنچنے کا وقت دیا گیا تھا۔لانگ مارچ کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خطاب میں وفاقی اور صوبائی سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات نمایاں رہے، جبکہ انہوں نے اپنے خطاب میں قانون کی یکساں عملداری اور صوبے کے سیاسی معاملات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار بھی پیپلز پارٹی کو ٹھہرایا۔پشاور کے کوہاٹی گیٹ پر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کے عوام نے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ پر پختونوں کے خلاف بیان دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر تنقید کی۔سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ بلاول بھٹو زرداری کے والد خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بلاول بھٹو زرداری کے نانا اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے ’’ادھر تم، ادھر ہم‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد کی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ پشاور میں کبوتر چوک، رنگ روڈ پہنچ گیا، جہاں کارکنوں کو شام 7 بج کر 30 منٹ تک پہنچنے کا وقت دیا گیا تھا۔لانگ مارچ کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خطاب میں وفاقی اور صوبائی سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات نمایاں رہے، جبکہ انہوں نے اپنے خطاب میں قانون کی یکساں عملداری اور صوبے کے سیاسی معاملات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔