فلپائن میں پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ان گاڑیوں کی رجسٹریشن گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 130 فیصد بڑھ گئی، جبکہ ملک میں نئی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ تقریباً 25 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران فلپائن میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن 67 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ ماہرین کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صارفین کو ایسے متبادل ذرائع نقل و حمل کی طرف راغب کر رہی ہیں جن سے روزمرہ سفر کے اخراجات کم کیے جاسکیں۔رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فلپائن میں پٹرول کی قیمتوں میں 68.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں ہونے والے بڑے اضافوں میں یہ چوتھا بڑا اضافہ بتایا گیا ہے۔فلپائن اپنی ضروریات کا تقریباً تمام ایندھن درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست ملکی معیشت اور صارفین پر پڑتے ہیں۔ ملک میں عوامی نقل و حمل کے محدود ذرائع اور ایندھن پر سرکاری سبسڈی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے سفری اخراجات ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔فلپائن کی وزارتِ توانائی کے انرجی یوٹیلائزیشن مینجمنٹ بیورو کے ڈائریکٹر پیٹرک ایکوینو کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں غیر معمولی تیزی دیکھی جارہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کے باعث خریداروں کو گاڑیوں کی بکنگ، پیشگی ادائیگی اور ڈیلیوری کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
حکومت نے بھی الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ حکومتی ہدف کے مطابق 2030 تک ملک کی نصف ٹیکسیوں اور سرکاری اہلکاروں کے زیرِ استعمال گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایندھن پر انحصار کم کرنا اور متبادل ذرائع نقل و حمل کو فروغ دینا ہے۔چین کی معروف الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی (BYD) کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کے فلپائنی مینیجنگ ڈائریکٹر باب پالانکا کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران کمپنی نے 28 ہزار 399 گاڑیاں فراہم کیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 99 فیصد زیادہ ہیں۔باب پالانکا کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنی فروخت کے اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر رہی ہے اور اسے توقع ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کا رجحان 2026 کے باقی مہینوں اور 2027 میں بھی برقرار رہے گا۔
دوسری جانب فلپائن میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ نیٹ ورک سے وابستہ کمپنی اے سی موبیلٹی کے مطابق، ملک میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی تک پہنچ چکا ہے۔ یہ شرح 2025 میں 12 فیصد اور 2024 میں صرف 4 فیصد تھی، جو اس شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔حکومت 2028 میں ختم ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کی چھوٹ کو جاری رکھنے کی بھی کوشش کر رہی ہے، تاکہ درآمدی لاگت میں کمی کے ذریعے گاڑیوں کی قیمتیں صارفین کے لیے نسبتاً قابلِ برداشت رکھی جاسکیں۔تاہم الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی فروخت میں اضافے کی رفتار نسبتاً سست ہے۔ فلپائن میں روایتی موٹر سائیکلوں اور جیپنی کہلانے والی مقامی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا وسیع استعمال اب بھی پٹرول کی طلب برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزارتِ توانائی کے ڈائریکٹر پیٹرک ایکوینو کے مطابق اگر الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ وِن فاسٹ (VinFast) جیسی کمپنیوں کی جانب سے ایک لاکھ فلپائنی پیسو سے کم قیمت پر الیکٹرک موٹر سائیکلیں پیش کرنا اس ٹیکنالوجی کو زیادہ صارفین تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔فلپائن میں الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ظاہر کرتی ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صارفین کی ترجیحات تبدیل کرسکتا ہے۔ تاہم اس رجحان کا مستقبل گاڑیوں کی قیمتوں، چارجنگ اسٹیشنز کی دستیابی، حکومتی مراعات اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے جڑا ہوگا۔