عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، کشیدگی اور سیاسی حالات کا اثر بڑھ گیا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، کشیدگی اور سیاسی حالات کا اثر بڑھ گیا

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد علاقائی صورتحال کشیدہ ہوتی جارہی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے فوجی حکمت عملی مزید جارحانہ بنانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کے سودے 27 سینٹ اضافے کے ساتھ 91.50 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 42 سینٹ بڑھ کر 85.30 ڈالر فی بیرل رہا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مستقل جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث ایران نے ’’مکمل جارحانہ‘‘ فوجی پوزیشن اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی کے توسیع کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔اس کشیدگی کا سب سے بڑا اثر آبنائے ہرمز پر پڑ رہا ہے، جہاں تیل بردار اور دیگر تجارتی جہازوں کی آمدورفت انتہائی محدود ہوگئی ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر صرف پانچ کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، اور اتوار کو کوئی جہاز گزرنے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے، جہاں یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے، اور تہران کا موقف ہے کہ معاہدہ قریب ہے، مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کے خلاف دھمکی سے سفارتی کوششوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ پسِ پردہ رابطے بھی شروع کیے ہیں، جنہیں سفارتی پیش رفت کی ایک محدود امید قرار دیا جا رہا ہے۔عالمی منڈی میں سرمایہ کار اب امریکی خام تیل کے ذخائر کے اعداد و شمار پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں، اور رائٹرز کے ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔