عبداللطیف بیگ
آج ہمارے پیارے ملک پاکستان کا عام اور غریب آدمی جس گہرے دکھ، تکلیف اور مایوسی سے گزر رہا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ گلی محلوں سے لے کر دوردراز کے دیہاتوں اور بڑے شہروں کے کچے مکانات تک، ہر جگہ ایک ہی رونا اور ایک ہی ماتم ہے۔ غریب تو پہلے ہی پس رہا تھا، لیکن اب تو محنت مزدوری کرنے والا، نوکری پیشہ اور سفید پوش درمیانہ طبقہ بھی گھٹنے ٹیک چکا ہے۔ روز روز بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول کی آسمان چھوتی قیمتیں اور بجلی کے ظالمانہ بلوں نے عام انسان سے چین سے جینے کا حق اور سکون کی آخری سانس بھی چھین لی ہے۔ یہ صرف پیسے کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کروڑوں مائوں، بہنوں، بزرگوں اور جوانوں کی سسکیاں ہیں جو ہر رات اس خوف اور فکر کے ساتھ سوتے ہیں کہ اگلی صبح اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے اور ان کا تن کیسے ڈھانپیں گے۔
سب سے بڑا عذاب بجلی کا بل بن چکا ہے، جو اب خوشی یا سہولت نہیں بلکہ غریب کے لیے موت کا پروانہ بن کر گھر آتا ہے۔ مہینے کا آغاز ہوتے ہی ہر جھونپڑی اور چھوٹے مکان میں ایک عجیب سا خوف پھیل جاتا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب لوگ مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ یا مزدوری کے پیسے آتے ہی خوشی خوشی گھر کا راشن خریدتے تھے، بچوں کے اسکول کی فیس الگ کرتے تھے اور بیماری کے لیے چند پیسے بچا لیتے تھے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پورے مہینے کی کمائی بجلی کا ایک بل نگل جاتا ہے۔ بل ادا کرنے کے بعد جیب خالی ہو جاتی ہے اور پھر اپنے ہی بچوں کو روٹی کھلانے، بوڑھے ماں باپ کی دوا خریدنے اور گھر چلانے کے لیے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے، ادھار مانگنا پڑتا ہے۔ تپتی گرمی کے موسم میں جب دیہاتوں اور غریب بستیوں میں کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور معصوم بچے بغیر پنکھے کے پسینے میں تڑپتے ہیں، تو مجبور والدین کے پاس آسمان کی طرف دیکھنے اور اپنے آنسو پونچھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ غریب اب یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ اپنے بچوں کو روشنی دے یا دو وقت کا نوالہ۔
پٹرول کا مہنگا ہونا کسی ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ یہ غریب کی پوری زندگی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ جیسے ہی پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ ہوتا ہے، بسوں، ویگنوں اور چنگچی رکشوں کے کرائے دگنے ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی منڈی سے آنے والی سبزی، دال، آٹا، گھی اور ضرورت زندگی کی ہر چھوٹی بڑی چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ وہ موٹر سائیکل یا رکشہ جو کبھی غریب کی سب سے بڑی سواری اور روزگار کا ذریعہ تھی، اب اس کو چلانا بھی ایک عذاب بن چکا ہے۔ پٹرول پمپ پر کھڑا ہر دیہاڑی دار مزدور اپنی جیب میں موجود چند سو کے نوٹ دیکھ کر لرز اٹھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ نوکری یا مزدوری پر جانے کے لیے گاڑی میں پٹرول ڈلوائے یا شام کو گھر لوٹتے ہوئے بچوں کے لیے آٹے کا تھیلا لے کر جائے؟ یہ کیسا انصاف ہے جہاں انسان کو روزگار پر جانے اور زندہ رہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔
اس شدید معاشی تنگی اور بے بسی نے پورے معاشرے کو ایک نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ہر چہرے پر غصہ، آنکھوں میں مایوسی اور دلوں میں نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ گھروں میں معمولی باتوں پر جھگڑے ہو رہے ہیں، میاں بیوی میں ناچاقیاں بڑھ رہی ہیں اور باپ اپنے بچوں کی معصوم فرمائشیں پوری نہ کرنے پر اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے۔ جب پیٹ خالی ہو، چولہا ٹھنڈا ہو اور بچے بھوک سے بلک رہے ہوں، تو انسان
کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں چوری، ڈکیتی اور جرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ لوگ اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو، جو اس ملک کا اثاثہ ہیں، اپنا مستقبل بالکل اندھیرا نظر آ رہا ہے۔ پڑھے لکھے، ڈگریاں ہاتھ میں لیے اور ہنر مند لڑکے کوڑیوں کے بھائو کام کرنے پر مجبور ہیں یا پھر مایوس ہو کر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس زمین پر محنت کرنے کے بعد بھی عزت کی زندگی اور دو وقت کا سکون نصیب نہیں ہو سکتا۔
ہمارے حکمران، سیاستدان اور بڑے افسر جو ٹھنڈے کمروں اور ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر غریبوں کے لیے ’’مشکل فیصلوں‘‘ کی نوید سناتے ہیں، شاید انہیں اس زمینی حقیقت کا اندازہ ہی نہیں کہ نیچے رہنے والے انسان کس حال میں جی رہے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ جب ایک مزدور پورا دن تپتی دھوپ میں کھڑے ہو کر بھی خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ عوام اب مزید کسی قربانی یا بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ یہ کالم کسی ایک سیاسی پارٹی یا حکومت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ اس پورے فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف ایک پکار ہے جس نے غریب کو صرف ٹیکس دینے والی اور قربانی دینے والی ایک مشین سمجھ رکھا ہے۔
اگر اب بھی غریب کی اس چیخ کو نہ سنا گیا، اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، اور بڑے بڑے افسروں، وزیروں اور اشرافیہ کو ملنے والی مفت بجلی، مفت پٹرول اور شاہانہ مراعات بند نہ کی گئیں، تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ ہمارے ملک کے لوگ بہت صابر، محنتی اور وفادار ہیں، انہوں نے ہر مشکل وقت میں ملک کا ساتھ دیا ہے، لیکن قربانی اور بوجھ کا رخ ہمیشہ غریب کی طرف نہیں ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امیر، جاگیردار اور حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں اور شاہ خرچیاں قربان کرے، تاکہ اس ملک کا غریب، کسان اور مزدور بھی چین کا سانس لے سکے اور عزت کے ساتھ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔