ندیم ملک
پاکستان میں مہنگائی اب صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن چکی ہے۔ ہر طلوع ہونے والا دن اشیائے ضروریہ کی نئی قیمتوں کی خبر لے کر آتا ہے۔ ایل پی جی گیس آج بھی کئی شہروں اور قصبوں میں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔ گھی، چینی، آٹا، دالیں، چاول، پھل، سبزیاں، گوشت، دودھ، نان اور روٹی کی قیمتیں عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر نکلتی جا رہی ہیں۔ بازاروں میں نرخ نامے آویزاں ضرور ہوتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضلعی انتظامیہ کارروائیوں کے دعوے کرتی ہے لیکن منافع خور مافیا ہر کارروائی کے بعد پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ سرگرم ہو جاتا ہے
یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ اگر ریاست کے پاس پرائس کنٹرول کے قوانین، مارکیٹ کمیٹیاں، مجسٹریٹس، ضلعی انتظامیہ اور نگرانی کے ادارے موجود ہیں تو پھر عام آدمی کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟ آخر وہ کون سی طاقت ہے جو قانون سے بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے؟
معاشیات کے بانی سمجھے جانے والے ایڈم اسمتھ نے کہا تھا(منڈی کی آزادی اسی وقت مفید ہوتی ہے جب مقابلہ حقیقی ہو اور اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے)پاکستان میں اصل مسئلہ یہی ہے کہ کئی شعبوں میں مسابقت کے بجائے چند طاقتور گروہ قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کا نقصان براہِ راست صارف کو پہنچتا ہے
برطانوی ماہرِ معاشیات جان مینارڈ کینز کے بقول(مہنگائی ایک ایسا خاموش ہتھیار ہے جو دولت کی تقسیم کو غیر محسوس انداز میں بدل دیتا ہے) پاکستان میں اس کی واضح مثال دیکھی جا سکتی ہے۔ مہنگائی کے باعث امیر طبقہ اپنے وسائل بڑھا لیتا ہے جبکہ تنخواہ دار اور مزدور طبقہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مشکلات میں گھر جاتا ہے
ملٹن فریڈمین کا مشہور قول ہے: (Inflation is taxation without legislation) یعنی مہنگائی وہ ٹیکس ہے جس کے لیے پارلیمنٹ سے قانون پاس کرانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ پاکستان میں عوام ہر روز اسی غیر اعلانیہ ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں
سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا (کسی قوم کی طاقت کا اندازہ اس کے عام شہری کے معیارِ زندگی سے لگایا جاتا ہے) اگر ایک مزدور اپنے بچوں کے لیے دودھ، آٹا اور سبزی خریدنے سے قاصر ہو تو معاشی ترقی کے تمام دعوے اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔
امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کا یہ قول آج بھی قابلِ غور ہے(کسی معاشرے کی ترقی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کے امیر کتنے امیر ہیں بلکہ اس بات سے کہ اس کے کمزور لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں) پاکستان میں مہنگائی نے سب سے زیادہ کمزور طبقات کو متاثر کیا ہے۔ سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس بچانے کے لیے خاموش ہے، مزدور اضافی اوقات کار پر مجبور ہے اور پنشنرز اپنی محدود آمدنی میں زندگی گزارنے کی جدوجہد کر رہے ہیں
ایل پی جی گیس کی قیمتیں اس وقت ریاستی نگرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں سرکاری نرخ کچھ اور ہوتے ہیں جبکہ بازار میں قیمت کچھ اور وصول کی جاتی ہے۔ شہری شکایت کرتے ہیں، مگر چند دن بعد حالات پھر وہی ہو جاتے ہیں۔ یہی صورتحال چینی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بھی ہے۔
فرانسیسی مفکر مونٹیسکیو کے بقول (جب قانون کمزور اور مفادات طاقتور ہو جائیں تو انصاف ختم ہو جاتا ہے) یہی صورتحال ناجائز منافع خوری کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے۔
امریکی ماہرِ انتظام پیٹر ڈرکر کے نزدیک(جس چیز کی نگرانی نہ کی جائے اسے بہتر نہیں بنایا جا سکتا) اگر قیمتوں کی مؤثر نگرانی ہی نہ ہو تو پرائس کنٹرول محض سرکاری فائلوں تک محدود رہ جاتا ہے معروف ماہرِ معاشیات فریڈرک ہائیک نے خبردار کیا تھا کہ منڈی کے نظام کو شفاف قوانین اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ طاقتور عناصر پورے نظام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت اسی کمزوری کی مثالیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے بقول(غربت صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ مواقع اور انصاف کی کمی کا بھی نام ہے) جب روزگار محدود، قیمتیں بلند اور نگرانی کمزور ہو تو غربت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
برطانوی فلسفی جان لاک کا کہنا تھا(حکومت کا بنیادی فرض عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے) موجودہ دور میں عوام کے مال کا تحفظ صرف چوری اور ڈکیتی سے بچانا نہیں بلکہ ناجائز منافع خوری سے بھی محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں ہر سال یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے گا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ رمضان، عیدیں اور محرم جیسے مواقع پر قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ایسے مواقع پر عوام کو ریلیف ملنے کے بجائے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے کہا تھا(حکومت عوام کی، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہونی چاہیے)اگر عوام بنیادی ضروریات سے ہی محروم ہوں تو ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھنا فطری امر ہے -مارگریٹ تھیچر کہا کرتی تھیں(معاشی نظم و ضبط کے بغیر خوشحالی ممکن نہیں) اس نظم و ضبط میں مالیاتی استحکام کے ساتھ ساتھ مارکیٹ ریگولیشن بھی شامل ہے۔
رونالڈ ریگن کے نزدیک (مہنگائی اتنی ہی خوفناک ہے جتنی ایک مسلح ڈاکو کی واردات، کیونکہ یہ لوگوں کی جمع پونجی خاموشی سے چھین لیتی ہے) پاکستان میں مسلسل مہنگائی نے متوسط طبقے کی برسوں کی بچت کو بھی متاثر کیا ہے۔
جرمن چانسلر اوٹو فان بسمارک کا قول ہے(ریاست کی طاقت اس کے عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے)جب عوام یہ محسوس کریں کہ ریاست انہیں ناجائز منافع خوروں سے تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی تو اعتماد میں کمی آتی ہے پاکستان میں ضلعی انتظامیہ کو جدید ڈیجیٹل پرائس مانیٹرنگ، روزانہ مارکیٹ انسپکشن، فوری جرمانوں، صارف شکایت مراکز، اور شفاف رپورٹنگ کا نظام متعارف کرانا ہوگا۔ صرف نمائشی
چھاپوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مستقل نگرانی اور بلاامتیاز احتساب کی ضرورت ہے۔
چینی مفکر کنفیوشس نے کہا تھا(اچھی حکومت وہ ہے جس میں عوام خود کو محفوظ محسوس کریں)موجودہ حالات میں معاشی تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسمانی تحفظ
یہ بھی سچ ہے کہ کسان کو اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا جبکہ صارف مہنگی قیمت ادا کرتا ہے۔ درمیان میں موجود غیر ضروری منافع خور پورے نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر سپلائی چین کو شفاف اور مختصر بنایا جائے تو نہ صرف کسان کو بہتر قیمت ملے گی بلکہ صارف کو بھی ریلیف حاصل ہوگا مہنگائی کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوتی ہے۔ مضبوط ریاست وہ نہیں جس کے پاس صرف بڑے منصوبے ہوں بلکہ وہ ہے جہاں ایک مزدور، ایک استاد، ایک پنشنر، ایک دیہاڑی دار اور ایک سفید پوش خاندان باعزت زندگی گزار سکے۔ جب تک قانون کی عملداری، شفاف احتساب، مؤثر پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی، اور عوام دوست معاشی پالیسیاں نافذ نہیں ہوں گی، مہنگائی کا عفریت قابو میں نہیں آئے گا۔
پاکستان کے عوام کسی رعایت کے نہیں بلکہ اپنے آئینی حق کے طالب ہیں۔ انہیں مناسب قیمت پر آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، پھل، ایل پی جی گیس، نان اور روٹی فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ریاست اس ذمہ داری کو پوری قوت سے نبھائے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ معیشت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے گی