وہ جو ہمیں جینا سکھاتے ہیں

ڈاکٹر جمشید نظر
خلیفہء وقت ہارون الرشید نے جب امام مالک بن انسؒ سے درخواست کی کہ وہ شاہی محل میں آ کر انہیں حدیث رسولؐ پڑھائیں تو امام مالکؒ نے فرمایا’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں، علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا۔‘‘آپ ؒ نے مزید فرمایا’’اگر تم کچھ سیکھنا چاہتے ہوتو میرے حلقہء درس میں آؤ۔‘‘یہ سن کرخلیفہ ہارون الرشیدامام مالکؒ کے درس میں حاضر ہوگیا اوردیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ امام مالکؒیہ دیکھ کر فرمایا’’اگر علم حاصل کرنا چاہتے ہو، تو اہل علم کا احترام کرو!‘‘یہ سن کر خلیفہ مودبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا اور ادب کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت طلب کی۔
علّامہ اقبالؒ اپنے استاد سیّد میر حسن کا بہت ادب و احترام کیا کرتے تھے۔ جب علّامہ اقبال کو برطانوی حکومت کی جانب سے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا جانے لگا تو انہوں نے اس وقت کے گورنر سے کہا کہ میں ’’سر‘‘ کا خطاب اس وقت لوں گا جب میرے استاد سیّد میر حسن کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے گا۔‘‘ گورنر نے پوچھا ’’کیا انہوں نے کوئی کتاب تصنیف کی ہے؟‘‘ علامہ نے فرمایا ’’انہوں نے کوئی کتاب تو تصنیف نہیں کی لیکن میں ان کی زندہ تصنیف آپ کے سامنے موجود ہوں۔‘‘یہ سن کر گورنر لاجواب ہوگیا اور علامہ کی تجویز مان لی۔یہ بات منوانے کے بعد علامہ اقبال ؒ  کوخیال آیا کہ ان کے استاد محترم تو سیالکوٹ رہتے ہیں اور انھیں’’سر‘‘ کا خطاب لینے کے لیے لاہور آنا پڑے گا۔ وہ پھر گورنر سے بولے ’’ایک شرط اور بھی ہے جو میں بھول گیا تھا وہ یہ کہ میرے استاد بوڑھے ہیں اس لیے انہیں خطاب لینے کے لیے لاہور نہ بلایا جائے بلکہ ان کے گھر سیالکوٹ میں جاکر انہیں اس خطاب سے نوازا جائے۔‘‘ گورنر نے علامہ اقبالؒ کی اس شرط کو بھی منظور کرلیا اورپھر ان کے استاد سیّد میر حسن کو ان کے گھر سیالکوٹ میں جاکر ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ استاد کی عزت ،احترام کے حوالے سے یہ سچے واقعات نئی نسل کو یہ بات سمجھاتے ہیں کہ استاد محض ایک پیشہ ور فرد نہیں بلکہ وہ چراغ ہے جو دوسروں کو راستہ دکھاتا ہے۔ ایک حقیقی استاد نہ صرف کتابی علم دیتا ہے بلکہ طلبا کے کردار، فکر، اخلاق، اور انسانیت کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہ خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت بنانے کی ہمت دیتا ہے اس کا اثر وقتی نہیںبلکہ نسلوں تک پھیلتا ہے۔
5  اکتوبر دنیا بھر میں استاد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ایک عظیم پیشے سے وابستہ افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو معاشروں کے ذہن، شعور اور مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور اساتذہ کی فلاح و بہبود پر غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔عالمی سطح پر یہ دن 1966 میں ILO اور UNESCO کی طرف سے اساتذہ کے حقوق، فرائض، تربیت، تقرری اور تدریسی ماحول سے متعلق جو سفارشات منظور کی گئیں اُن کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بعد ازاں 1997 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے لیے بھی علیحدہ سفارشات پیش کی گئیں۔ یہ دن باقاعدہ طور پر 1994 سے منایا جا رہا ہے۔اس سال کا مرکزی موضوع ہے’’تدریس کو ایک اشتراکی پیشہ کے طور پر ازسرِ نو تشکیل دینا‘‘(Recasting Teaching as a Collaborative Profession)۔یہ موضوع اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ تدریس، جو ماضی میں انفرادی ذمہ داری سمجھی جاتی رہی ہے اب ایک اجتماعی اور باہمی تعاون پر مبنی پیشہ ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں اساتذہ کو اکثر تنہائی، کم تربیت، اور محدود تعاون کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر تعلیمی معیار، طلبا کی کارکردگی، اور خود اساتذہ کی ذہنی و جذباتی صحت پر پڑتا ہے۔
UNESCO، ILO، UNICEF اور Education International نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں اور پالیسی ساز اساتذہ کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں باہمی سیکھنے، تجربے کے تبادلے اور اجتماعی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ تعلیم کے شعبے میں تنہائی کی بجائے اجتماعی طاقت ہی تعلیمی نظام کی بہتری کا راستہ ہے۔ اس حقیقت کے باوجود دنیا کے کئی حصوں میں اساتذہ کو وہ عزت، تنخواہیں، تربیت اور سہولیات حاصل نہیں جو اُن کے شایانِ شان ہیں بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں تعلیمی ادارے وسائل کی کمی، پالیسی کی ناکامی اور سیاسی عدم دلچسپی کا شکار ہیں جس کا سب سے زیادہ اثر اساتذہ پر پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ تربیت کے معیاری پروگرامز متعارف کروائے جائیں،اساتذہ کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے،تعلیمی اداروں میں باہمی تعاون، رہنمائی، اور اشتراک کا ماحول پیدا کیا جائے،ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع تعلیم کو اساتذہ کی سہولت کے لیے بروئے کار لایا جائے اورمعاشرتی سطح پر استاد کو عزت، وقار اور وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حقدار ہیں کیونکہ استاد صرف کلاس روم میں نہیں ہوتا بلکہ ہر اس دل میں زندہ رہتا ہے جہاں کبھی اس کا سبق اُترا تھا۔