امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی معاہدے پر دنیا بھر سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، عالمی رہنماؤں نے اسے ’’بڑی سفارتی کامیابی‘‘ اور ’’دیرپا امن کی جانب پہلا عملی قدم‘‘ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اسرائیل اور حماس نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام مغوی جلد رہا ہوں گے اور اسرائیلی افواج متفقہ لائن تک واپس چلی جائیں گی۔ یہ امن کی طرف پہلا مضبوط قدم ہے۔‘‘انہوں نے قطر، مصر اور ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:’’مبارک ہیں وہ لوگ جو امن قائم کرتے ہیں۔‘‘اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاہدے کو ’’اسرائیل کے لیے ایک عظیم دن‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:
’’ہم اپنے تمام مغویوں کو واپس لانے اور اپنے اہداف کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘انہوں نے امریکی صدر کی قیادت اور اسرائیلی فوج کی قربانیوں کو سراہا۔حماس نے اپنے ردعمل میں کہا کہ’’ہم قطر، مصر، ترکی اور امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم قابض حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور عمل درآمد میں تاخیر نہ کرے۔‘‘
حماس نے فلسطینی عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم آزادی اور خودمختاری تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘قطر کی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ’’جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تمام نکات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے، مغویوں اور قیدیوں کی رہائی اور امدادی سامان کی فراہمی کی راہ ہموار کرے گا۔‘‘
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس پیش رفت کو ’’امید کی کرن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا:’’ہم صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ اقدام غزہ کے عوام کے لیے دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘‘
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا:’’یہ لمحہ دنیا بھر میں اطمینان اور امید لے کر آیا ہے۔ معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے اور انسانی امداد پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔‘‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امن معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے کہا:’’میں امریکا، قطر، مصر اور ترکی کی سفارتی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ تمام مغویوں کو باوقار طریقے سے رہا کیا جائے اور مستقل جنگ بندی یقینی بنائی جائے۔ یہ لڑائی ہمیشہ کے لیے بند ہونی چاہیے۔‘‘
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اسے ’’دیرپا امن کی طرف لازمی قدم‘‘ قرار دیا اور فریقین سے مطالبہ کیا کہ’’وہ اس راستے پر قائم رہیں۔‘‘تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی برادری کے اس متفقہ ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں برسوں سے جاری تباہ کن جنگ کے بعد اب دنیا حقیقی امن کی امید باندھے بیٹھی ہے — ایک ایسا امن جو صرف الفاظ نہیں بلکہ میدانِ عمل میں قائم ہو۔