اسرائیلی حکام نے 37 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد یہ قیدی جنوبی غزہ کے خان یونس میں واقع ناصر ہسپتال میں طبی معائنے کے لیے لائے گئے ہیں۔
ان قیدیوں کو بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی نگرانی میں کریم شالوم/کریم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے جذباتی مناظر دیکھے اور اپنے پیاروں کو گلے لگایا۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، رہا کیے گئے قیدیوں کو طبی معائنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں میں حراست کے دوران شدید جسمانی تشدد، استحصال اور اذیتوں کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے ان کی صحت کی حالت انتہائی نازک ہوگئی ہے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ اقدام ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ فلسطینی قیدیوں کی حالت زار اور ان کے حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر آواز بلند ہو رہی ہے۔
یہ رہائی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر اسرائیلی حکام نے قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا ہے۔علاقائی اور بین الاقوامی برادری اس اقدام کو کشیدگی کم کرنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ رہائیاں مزید انسانی ہمدردی اور امن کے قیام کی طرف ایک قدم ثابت ہوں گی۔