ایران کی ٹرمپ کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کی تردید

ایران کی ٹرمپ کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کی تردید

تہران: ایران نے امریکہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سابق یا موجودہ امریکی عہدیداروں کے قتل کی سازش میں ملوث نہیں ہے، یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

 ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سازش امریکہ اور ایران کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنانے کی ایک کوشش ہے، جس کے پیچھے اسرائیلی لابی کا ہاتھ ہے۔یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب امریکہ نے ایک افغان شہری، فرہاد شاکری، کو گرفتار کیا، جس پر دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کا رکن ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ امریکہ نے کہا کہ شاکری نے اس کام کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب سے ہدایات لی تھیں اور وہ کچھ عرصہ تہران میں بھی مقیم رہ چکا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل طور پر جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا۔ ایران کے مطابق یہ سازش امریکہ میں ایران کے خلاف بڑھتے ہوئے پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور اس کے پیچھے اسرائیل کی لابی کا ہاتھ ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ پر دو بار قاتلانہ حملے کی کوشش ہو چکی ہے۔ ایک حملہ پنسلوینیا میں انتخابی ریلی کے دوران ہوا تھا، جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے اور گولی ان کے کان کو چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔