حاملہ خاتون کو رات 2بجے کاہنہ ہسپتال سے نکال دیا گیا

ڈاکٹر رابعہ پر خاتون سے بدتمیزی کاالزام ، لبنی ٰ کی مجبوراًپرائیویٹ ڈلیوری 
 لاہور( کرائم رپورٹر )گورنمنٹ کاہنہ ہسپتال نے مریضوں کو زبردستی پرائیویٹ ہسپتال بھیجنے کی روش تبدیل نہ ہوسکی۔ ایک اور حاملہ خاتون کو رات 2بجے کاہنہ ہسپتال سے نکال دیا گیا۔شدید لیبر پین میں مبتلا 37سالہ لبنیٰ وحید نے سرکاری ہسپتال کے سامنے پرائیویٹ ہسپتال میں بچے کو جنم دے دیا۔خاوند نے الزام لگایاکہ گورنمنٹ ہسپتال کاہنہ کی ڈاکٹر رابعہ نے شدید لیبر پین میں مبتلا مریضہ لبنی ٰوحید کے ساتھ بد تمیزی کرکے اسے ہسپتال سے جانے کو کہا جس کے بعد7 نومبرکو لبنیٰ وحید نے ڈلیوری کے لیے گھنٹوں کے وقفہ سے تین چکر لگائے مگر رات 2بجے کے بعد خاتون کو کاہنہ ہسپتال کے سامنے پرائیویٹ ہسپتال لیجاکر سرجری کرا لی۔لبنیٰ کیشوہر وحید کا کہنا ہے کہ9ماہ سے بیوی کا علاج کاہنہ ہسپتال سے کرا رہا تھا۔ڈاکٹر رابعہ کے پرائیویٹ ہسپتال میں آپریشن کرایا جہاں پر میرا 40ہزار خرچ آیا۔دوسری جانب ڈاکٹر رابعہ اسد کا مؤقف ہے کہ میں نے مریضہ کو داخل کیا ،یہ خود ہی بھاگ گئی اور ویسے بھی ان کی ڈلیوری کا ابھی وقت پورا نہیں ہوا تھا۔