تحریر۔ پروفیسر حکیم سید عمران فیاض
سموگ کی روک تھام کے سلسلہ میں وزیراعلی پنجاب کی نگرانی میں اھم اقدامات کیئے جارھے ھیں۔ پنجاب کے متعدد شہروں میں17نومبر تک ہائیر سیکنڈری تک تعلیمی ادارے بند کردیئے گئیے ہیں‘ اس کے علاوہ بعض حساس علاقوں میں گرین لاک ڈاون بھی لگایا جا رھاھے۔ لیکن ان علاقوں میں اس پر عملدرآمد ھوتا نظر نہیں آرھا۔ سموگ کا سب سے زیادہ زور لاھور میں دیکھنے کو مل رھا ھے جہاں کوالٹی انڈیکس 700 سے بھی تجاوز کر چکا ھے۔ جبکہ دن بدن اس کا زور پنجاب کے دیگر 6 ڈویڑنز جن میں لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال اور سرگودھا ڈویڑن شامل ھیں بھی پھیل رھا ھے ،وزیراعلی پنجاب جو ایک بڑی جہاندیدہ و زیرک خاتون ھیں لیکن ان کو بعض مشیران سب اچھا کی رپورٹ دے رھے ھیں جو کہ صحیع نہ ھے۔ میری ناقص العقل کے مطابق سب سے پہلے روڈز پر چلنے والی ایسی بڑی گاڑیوں۔ بسوں۔ ٹرکوں۔ ویگنوں۔ کاروں۔ آٹو رکشہ و موٹرسائیکل رکشہ کو روکنا ھوگا جو بعض مہربانوں کی مہربانیوں کی بدولت فٹنس سرٹیفکیٹس حاصل کر کے یا اسکے بغیر فضا میں آلودگی کا باعث بن رھی ھیں۔‘دوسری بات ایسی تمام دھواں اگلتی فیکٹریاں جو کہ گیس کی بجائے لکڑیاں۔ پرانے ٹائرز اور دیگر پلاسٹک سکریب جلا رھی ھیں انکے خلاف بھی غیرجانبدرانہ سخت سے سخت کاروائی عمل میں لانی چاھیے۔‘پنجاب بھر میں موجود ایسے بھٹہ خشت جوکہ فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رھے ھیں ان کے خلاف بھی ایکشن ھونا چاھیے۔‘گلی محلوں میں موجود ایسی منی فیکٹریاں و دوکانیں جو فضائی آلودگی کا سبب بن رھی ھیں انکے خلاف بھی کاروا?ی ھونی چاھیے۔
گھروں کے قریب۔ گلی محلوں کے اندر۔ مارکیٹوں کے باھر۔ روڈز کے کنارے۔ شاہراہوں کے قریب کوڑا کرکٹ۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے پر سخت سزا اور جرمانہ بھی ھونا چاھییایسے کارخانوں کے حوالے سے بھی کاروائی ھونی چاھیے جو کہ پرانے پلاسٹک۔ شاپر بیگ۔ ھسپتالوں کا فضلہ۔ ری سائیکل کرکے دوسری اشیا ء بناتے ھیں اور فضائی آلودگی کا باعث بنتے ھیں انکے خلاف بھی سخت سے سخت اقدام ھونا چاھیے۔ایسی کنسٹرکشن سائیٹس پر بھی نظر رکھنی چاھیے جو دھول مٹی کی وجہ سے سموگ کا باعث بن سکتی ھے۔ انھیں اگلے 3 ماہ تک کام بند رکھنے یا مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ھدایت کرنی چاھیے۔رات کو سڑکوں کے کنارے باربی کیو کا کاروبار کرنے پر بھی پابندی لگنی چاھیے کیونکہ یہ بھی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ ھیں۔ جس سے عوامی مشکلات میں اضافہ اور بیماریاں پیدا ھورھی ھیں۔
جن کا آخر ذمہ دار کون ھے ؟ وزیراعلی پنجاب کو چاھیے کہ وہ سموگ کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات ضرور کریں۔ اسکے ساتھ پنجاب میں کرپشن اور سفارش جیسے ناسور پر بھی پابندی لگائیں۔ جو کہ موجودہ وقت کی اھم ضرورت ھے اس حوالے سے کمیشنرز و ڈپٹی کمیشنرز کو بھی سرکلر جاری فرمائیں۔ذرائع کے مطابق ایماندار و محب الوطن لوگ کام کرنا چاھتے ھیں لیکن مافیا انہیں کام کرنے نہیں دیتا اور رکاوٹ بن جاتا ھے۔یہ امر قابل ذکر ھے کہ وطن عزیز میں قانون تو موجود ھے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ھورھا۔