نبی کریم بطورِ مشکل کشا

لبیب احمد
انسانی زندگی مشکلات، آزمائشوں اور فکری اضطراب کا مجموعہ ہے۔ کبھی معاشی تنگی، کبھی روحانی خلا، کبھی سماجی مسائل—ہر دور میں انسان نے کسی سہارے کی تلاش کی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ سہارا ذاتِ اقدسِ محمد  سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہو سکتا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت، رحمت اور رہنمائی بنا کر بھیجا۔ تاہم اس موضوع کو سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں اعتدال ضروری ہے۔
 اصل مشکل کشا کون؟
قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے:(اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں)سورۃ الانعام: 17
ایک اور مقام پر فرمایا:(کہہ دیجیے: میں اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے)سورۃ الاعراف: 188
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ نفع و نقصان اور مشکل کشائی کا اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ نبی کریم  اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور آپ کی شان و عظمت عطائی ہے، ذاتی نہیں۔
 نبی کریم  بطور وسیلہ ہدایت و رحمت
قرآن مجید میں آپ  کے مقام کو یوں بیان کیا گیا:(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا)سورۃ الانبیاء￿ : 107
یہ رحمت صرف اخروی نہیں بلکہ دنیاوی مشکلات میں بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ  کی تعلیمات نے منتشر عرب معاشرے کو ایک منظم امت میں بدل دیا۔ غربت، ظلم، ناانصافی اور قبائلی تعصب جیسے مسائل آپ  کی قیادت میں ختم ہوئے۔ یہ عملی مشکل کشائی تھی۔
مشکلات میں دعا اور توکل کی تعلیم
نبی کریم  نے اپنی امت کو مشکلات کے وقت اللہ سے رجوع کرنا سکھایا۔ ایک حدیث میں آتا ہے:
رسول اللہ  جب کسی پریشانی کا سامنا کرتے تو نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔
 (سنن ابی داؤد)
اسی طرح آپ  نے فرمایا:(اللہ کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت کرے گا؛ اللہ کو یاد رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے) (ترمذی)
یہ تعلیمات ظاہر کرتی ہیں کہ آپ  لوگوں کو اللہ سے جوڑ کر ان کی مشکلات کا حل بتاتے تھے۔
 صحابہ کی مشکلات اور نبوی رہنمائی
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو آپ  کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ ایک شخص قرض میں ڈوبا ہوا آیا تو آپ  نے اسے دعا سکھائی:(اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے حرام سے بچا اور اپنے فضل سے اپنے سوا سب سے بے نیاز کر دے)(ترمذی)
یہ دعا آج بھی مسلمانوں کے لیے مشکل کشا نسخہ ہے۔ یہاں نبی  خود مختار مشکل کشا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔
جنگی اور سماجی مشکلات میں قیادت
غزو ہ بدر کے موقع پر جب مسلمان کمزور اور تعداد میں کم تھے تو آپ ? نے رات بھر دعا کی:
اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی (صحیح مسلم)
اللہ تعالیٰ نے مدد نازل فرمائی۔ قرآن میں فرمایا:(جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی)سورۃ الانفال: 9
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مدد اللہ کی طرف سے آئی، مگر دعا کی قیادت نبی  نے کی۔ یہی توازن ہے۔
 شفاعت کا عقیدہ
قیامت کے دن آپ  کو مقامِ محمود عطا ہوگا
حدیث میں آتا ہے:(میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں… اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں)(صحیح مسلم)
یہ شفاعت بھی اللہ کے اذن سے ہوگی۔ قرآن کہتا ہے:(کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟)سورۃ البقرہ: 255
پس نبی کریم  کی مشکل کشائی کا اعلیٰ ترین پہلو شفاعت ہے، مگر وہ بھی اللہ کی اجازت سے۔
اعتدال کا راستہ
اسلام ہمیں انتہاپسندی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم  نے فرمایا:(مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھا دیا)(صحیح بخاری)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ محبت اور عقیدت میں توازن ضروری ہے۔
نتیجہ
نبی کریم  حقیقی معنوں میں انسانیت کے سب سے بڑے خیرخواہ اور رہبر ہیں۔ آپ  اللہ کی رحمت کا مظہر اور ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ مشکلات میں آپ  کی تعلیمات، دعائیں اور اسوہ حسنہ روشنی کا مینار ہیں۔ مگر اصل مشکل کشا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور نبی کریم  اس کی عطا سے رہنمائی اور شفاعت کا وسیلہ ہیں۔
جو شخص قرآن و سنت کی روشنی میں اس اعتدال کو اپناتا ہے، وہ نہ افراط میں پڑتا ہے نہ تفریط میں۔ وہ محبت بھی کرتا ہے، اتباع بھی کرتا ہے، اور یقین بھی رکھتا ہے کہ ہر مشکل کا حقیقی حل اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس حل تک پہنچنے کا سب سے روشن راستہ سیرتِ محمد ہے۔