نئے عالمی نظام کی پہلی گونج

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
غزہ اوردیگرتنازعات میں اسرائیل کی کارروائیوں نے اسے عالمی قانونی فورمزکے کٹہرے میں لاکھڑاکیاہے۔عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے اب اس کے اقدامات کاجائزہ لے رہے ہیں۔مگراس سب کے باوجوداسرائیل کامؤقف یہی ہے کہ اس کی سلامتی ہراصول پرمقدم ہے۔امریکاکی غیر متزلزل حمایت اور پشت پناہی اس مقف کومزیدمضبوط بناتی ہے،جس سے عالمی نظام کے توازن پرسوالات اٹھتے ہیں۔یہ صورتحال عالمی نظام میں عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہے،جہاں قانون کا اطلاق یکساں نہیں رہتا۔
امریکاکاکرداراس پوری داستان میں مرکزی حیثیت رکھتاہے۔وہ نہ صرف اس نظام کاحصہ ہے بلکہ اس کامعماربھی ہے اورنگران بھی، جس کے تحت دنیانے دہائیوں تک سانس لی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعداس نے عالمی اداروں،عسکری اتحادوں اورقانونی اصولوں کی ایسی بساط بچھائی جس سے اس کااثرونفوذعالمی سطح پرمستحکم ہوا۔اس نے عالمی سیاست کے قواعدوضوابط وضع کیے اوران کے ذریعے اپنی برتری کوبرقراررکھامگراب جب وہ خود ان اصولوں سے انحراف کرتادکھائی دیتاہے اوراب اس کے رویے میں ایک تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔اب یہ سوال جنم لیتاہے کہ جب معمارہی اپنے اصولوں سے انحراف کرنے لگے توعمارت کی بنیادیں ہلنافطری امرہے۔ کیامعماراپنی ہی تعمیرکو منہدم کرنے پرآمادہ ہوچکاہے؟
عراق جنگ اس تضادکی ایک نمایاں مثال تھی۔2003میں عراق پرحملہ وہ لمحہ تھاجب امریکانیاس نظام سے صریحاانحراف کیا،امریکا نے اس جنگ کوعالمی اتحادکے پردے میں پیش کیا،حالانکہ اس کے قانونی جوازپرشدیداختلاف موجودتھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب اصول اور مفادکے درمیان خلیج واضح ہونے لگی۔مگراس وقت بھی ایک کوشش موجودتھی کہ عالمی نظام کالبادہ برقراررکھاجائے،اصولوں کا احترام کمزورضرورہوامگرمکمل طورپرختم نہ ہواگویااصولوں سے انحراف بھی اصولوں کے پردے میں کیاگیایہی اس نظام کی اخلاقی نزاکت تھی۔
تاہم موجودہ تصادم میں یہ پردہ بھی چاک ہوتادکھائی دیتاہے۔بیانات میں وہ سفارتی شائستگی باقی نہیں رہی جوکبھی بڑی طاقتوں کا طر امتیازاورسفارت کاری کاخاصہ تھی۔اب الفاظ میں بھی وہی شدت درآئی ہے جومیدانِ جنگ میں نظرآتی ہیاوربعض اوقات جارحانہ بیانیہ گولی سے زیادہ زخم دیتاہے۔یہ تبدیلی عالمی سیاست کے مزاج میں ایک گہری تبدیلی کی
عکاس ہے۔گویازبان بھی بارودکی بوسے آشناہوگئی ہے۔اب الفاظ بھی ہتھیاربن چکے ہیںتیز،بے باک اورکبھی کبھی بے مہار۔یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست کامزاج تبدیل ہورہاہے۔
اس نئے عہدمیں معاشی ہتھیاربھی تلوارکی طرح استعمال ہورہے ہیں۔محصولات،تجارتی پابندیاں اورمالیاتی دبایہ سب محض معاشی تدابیرنہیں بلکہ سیاسی حربے بن چکے ہیں،اور دوست ودشمن کی تمیزبھی دھندلا گئی ہے۔معاشی ہتھیار ب زیادہ واضح، ارحانہ اورتلوار کی طرح استعمال ہورہے ہیں بلکہ ٹیرف،پابندیاں اورمالیاتی دبااب صرف اقتصادی پالیسی نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی اوردباکے ہتھیاربن چکے ہیں۔یہ ایک ایسامیدان ہے جہاں جنگ بغیرگولی چلائے لڑی جاتی ہے،مگراس کے اثرات کسی بھی عسکری کارروائی سے کم نہیں ہوتے۔یہ ایک خاموش جنگ ہے جس کے اثرات دوررس اورگہرے ہوتے ہیں۔
امریکاکی جانب سے اپنے اتحادیوں پردباؤ اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی نظام کے اندرونی تضادات بڑھ رہے ہیں اورعالمی نظام کے ستونوں میں دراڑیں پڑگئی ہیں جوخوداپنی بنیادوں کوہلارہے ہیں۔جب اتحادی بھی ایک دوسرے پراعتمادکھو دیں تونظام کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں۔اگرمعمار ہی دیواروں کوکمزورکرنے لگے توعمارت کی پائیداری پرسوال اٹھنافطری امرہے۔یہ صورتحال ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ہرملک اپنی بقاکیلئے خودہی راستہ تلاش کرے گا۔
ایران نے ماضی میں اپنی کارروائیوں کوایک حدکے اندررکھا،حتی کہ 12روزہ جنگ جیسے مواقع پر بھی اس نے اپنی سرخ لکیروں کا لحاظ کیا،ہمیشہ اپنی کارروائیوں کوایک حدکے اندر رکھا۔یہ احتیاط اس کی حکمتِ عملی کاحصہ تھی تاکہ تصادم قابوسے باہرنہ ہو۔یہ طرزِ عمل اس کی سیاسی بصیرت کاعکاس اورسٹریٹجک بصیرت کامظہرتھا کہ وہ تصادم کوقابو میں رکھتاتھا مگر حالیہ جنگ میں یہ توازن متزلزل دکھائی دیتاہے۔امریکااوراسرائیل نے باقاعدہ ملی بھگت سے ایران پرجارحانہ حملے کرکے اس کی قیادت کے50سے زائدافرا کو شہیدکردیا اور اب تک بقول ٹرمپ کے ایران کوتاراج کرنے کیلئے8ہزارسے زائد خوفناک فضائی حملے کرکے ہزاروں مقامات کونشانہ بنایاگیاہے۔قیادت کے نقصان کے بعدایران کاردعمل زیادہ وسیع اورشدیدہوگیااوربڑھتے ہوئے دباؤنے ایران کوایک زیادہ جارحانہ ردعمل پرمجبورکردیاہے ۔خلیج کے پانیوں سے لے کرعالمی منڈیوں تک اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔آبنائے ہرمزمیں خلل نے یہ ثابت کر دیاکہ علاقائی جنگ بھی عالمی معیشت کوہلاسکتی ہے؛گویاایک چنگاری نے عالمی بازارکولرزادیا۔آبنائے ہرمزمیں خلل اورعالمی منڈیوں پراثرات اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع اب محض علاقائی نہیں رہابلکہ عالمی سطح پراثر اندازہورہاہے۔آبنائے ہرمزمیں خلل اورعالمی منڈیوں پراثرات اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع اب عالمی معیشت کوبھی متاثرکررہاہے۔گویاایک علاقائی چنگاری نے عالمی نظام کو لرزادیاہے۔
بڑی طاقتیں اس صورت حال سے اپنے اپنے نتائج اخذکررہی ہیں اوراپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہی ہیں  روس کیلئے توانائی کی بڑھتی قیمتیں ایک بہترین معاشی موقع ہیں،جبکہ چین اس پورے منظرنامے کوایک سٹریٹجک تجربہ گاہ کے طورپردیکھ رہاہے کہ عالمی اصول کس طرح بدلتے ہیں اورطاقت کاتوازن کس سمت جھکتاہے۔ہرطاقت اس بحران سے اپنے لیے راستے تلاش کررہی ہے اوراپنے مفادات کے مطابق نتائج اخذکررہی ہے۔
یورپ اس تمام منظرنامے میں ایک کمزورکردارکے طورپرسامنے آرہاہے اوراس تمام ہنگامے میں ایک خاموش ناظردکھائی دیتاہے۔ یورپ کی محدودحیثیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں اس کاکردارکمزورپڑتاجارہاہے۔وہ اب فیصلہ سازنہیں بلکہ ایک مبصربن کررہ گیاہے۔سفارتی کوششوں کے باوجودوہ فیصلہ سازی میں نمایاں کردارادا نہیں کرپارہا۔یہ اس کے عالمی اثرورسوخ میں کمی کی علامت ہے،جیسے شطرنج کی بساط پرایک ایساکھلاڑی جس کے مہرے حرکت سے محروم ہوگئے ہوں۔
بالآخریہ سوال ابھرکرسامنے آتاہے کہ کیاموجودہ عالمی نظام اپنی عمرپوری کرچکاہے؟یہ تصادم محض ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے مستقبل کاسوال ہے جو1945کے بعدقائم ہواتھا۔اگراصولوں کی جگہ طاقت نے لے لی تودنیاایک ایسے دورمیں داخل ہو سکتی ہے جہاں قانون کی بجائے قوت کاراج ہو۔یہ ایک ایسامنظرنامہ ہے جہاں ریاستیں اپنے فیصلے عالمی اصولوں کے بجائے اپنی طاقت،مفاداوربقاکے تقاضوں کے تحت کریں گی اورتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب اصول کمزورپڑجائیں توتصادم ناگزیرہوجاتاہے ۔ تاریخ کا یہ بھی ایک تلخ سبق ہے کہ  ایسے ادوارعموما عدم استحکام اورانتشار کاپیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اگریہ ڈھانچہ مزیدکمزورہواتودنیاایک ایسے عہدمیں داخل ہوسکتی ہے جہاں اصولوں کی جگہ محض طاقت کاراج ہواورتاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب قانون کی روشنی مدھم پڑجائے توطاقت کااندھیراسب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہییہاں تک کہ وہ بھی جو کبھی اس روشنی کے امین تھے۔
یہ تمام نکات مل کرایک ایسی تصویرپیش کرتے ہیں جونہ صرف موجودہ عالمی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے خدوخال بھی واضح کرتے ہیںایک ایسا مستقبل جوغیریقینی، پیچیدہ اورشایدپہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ دنیاایک نئے عہدکے دہانے پرکھڑی ہیایک ایساعہدجوغیریقینی،پیچیدہ اورشایدپہلے سے زیادہ خطرناک ہے؛ مگر اسی میں مستقبل کے امکانات بھی پوشیدہ ہیں۔