فاریہ ملک
دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست ایک نئی حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو اگر کوئی ملک حقیقی معنوں میں دفاعی اور اسٹریٹجک قیادت دے سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ زمینی حقائق کا سادہ سا تجزیہ ہے۔
آج مسلم دنیا تقریباً ساٹھ سے زائد ممالک پر مشتمل ہے، مگر اس وسیع جغرافیے میں دفاعی لحاظ سے حقیقی طاقت رکھنے والے ممالک انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ان میں بھی واحد مسلم ملک جس کے پاس باقاعدہ ایٹمی صلاحیت، تجربہ کار فوج، میزائل ٹیکنالوجی اور جنگی تجربہ موجود ہے، وہ پاکستان ہے۔پاکستان کی افواج نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ کر اپنی صلاحیتوں کو عملی طور پر ثابت بھی کر چکی ہیں۔ دنیا کے کئی طاقتور ممالک نے اپنی فوجوں کو صرف مشقوں تک محدود رکھا، جبکہ پاکستان کی فوج حقیقی میدانِ جنگ میں دہائیوں سے سرگرم رہی ہے۔دوسری طرف عرب اور خلیجی ممالک کے سامنے ایک تلخ حقیقت کھڑی ہے۔ دہائیوں سے وہ اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ، پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ مگر عالمی سیاست کا اصول یہ ہے کہ کوئی بھی طاقت ہمیشہ کسی دوسرے کی حفاظت نہیں کرتی، بلکہ ہر ملک اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ جب خطے میں بحران پیدا ہوتے ہیں تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ بیرونی ضمانتیں ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتیں۔ایسی صورتحال میں مسلم دنیا کو اپنے اندر جھانک کر دیکھنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امتِ مسلمہ ہمیشہ دوسروں کے سائے میں رہے گی، یا اپنے دفاع کے لیے ایک مشترکہ اور خودمختار نظام قائم کرے گی؟یہاں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے پاس بڑی آبادی، جذبہ، جنگی مہارت اور سب سے بڑھ کر ایٹمی دفاعی صلاحیت موجود ہے۔ واحد کمزوری معاشی میدان میں ہے۔ اگر مسلم دنیا، خصوصاً خلیجی ممالک، اپنی بے پناہ مالی طاقت کا ایک حصہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں لگائیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔وہ اربوں اور کھربوں ڈالر جو ہر سال مغربی معیشتوں میں سرمایہ کاری کی صورت میں جاتے ہیں، اگر ان کا کچھ حصہ پاکستان میں صنعتی، دفاعی اور تکنیکی ترقی پر لگایا جائے تو چند ہی برسوں میں ایک ایسی طاقت ابھر سکتی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے دفاعی ڈھال بن جائے۔آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلم ممالک وقتی سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ دفاعی اتحاد قائم کریں۔ ایک ایسا اتحاد جو اقتصادی تعاون، مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کھڑا ہو۔ اگر یورپ نیٹو بنا سکتا ہے تو مسلم دنیا بھی ایک مضبوط اسلامی دفاعی اتحاد تشکیل دے سکتی ہے۔دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ جب تک مسلمان بکھرے رہیں گے، ان کی آواز کمزور رہے گی۔ لیکن اگر یہی امت اپنے وسائل، اپنی
فوجی صلاحیت اور اپنی معیشت کو ایک سمت میں استعمال کرے تو وہ ایک ایسی قوت بن سکتی ہے جسے نظر انداز کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ اب مسلم دنیا کو کرنا ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی طاقت پر انحصار کرتی رہے گی، یا اپنے اندر سے ایسی قوت پیدا کرے گی جو اسے عزت، تحفظ اور خودمختاری دے سکے۔حقیقت یہ ہے کہ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہیں اور اپنے دفاع کی ذمہ داری بھی خود اٹھاتی ہیں۔ اگر مسلم دنیا آج بھی تقسیم، باہمی بداعتمادی اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کی پالیسی پر قائم رہی تو اس کے نتائج مزید کمزوری اور عدم تحفظ کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ لیکن اگر یہی امت اپنے وسائل، اپنی دولت اور اپنی عسکری صلاحیت کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے یکجا کر لے تو ایک ایسی طاقت وجود میں آ سکتی ہے جو نہ صرف مسلم دنیا کے امن و استحکام کی ضامن بنے بلکہ عالمی سیاست میں بھی باوقار اور مضبوط آواز بن کر ابھرے۔ پاکستان اس اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے، بشرطیکہ مسلم ممالک دور اندیشی، اتحاد اور اعتماد کے ساتھ ایک نئی تاریخ لکھنے کا فیصلہ کریں۔