ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: امریکہ آئندہ دو ہفتوں میں ایران کے خلاف ’مکمل فتح‘ کا اعلان کرے گا

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: امریکہ آئندہ دو ہفتوں میں ایران کے خلاف ’مکمل فتح‘ کا اعلان کرے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ٹیلی ریلی کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر ایران کے خلاف اپنی ’مکمل فتح‘ کا اعلان کرے گا۔

یہ بیان انہوں نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے لیے منعقدہ ایک آن لائن خطاب میں دیا، جہاں انہوں نے اپنے سیاسی اور معاشی بیانات کو جاری رکھا۔
ٹرمپ کا مؤقف اور بیان کا پس منظر
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی فوجی اور سفارتی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں، لیکن اصل فتح اگلے دو ہفتوں میں نظر آئے گی، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے۔" ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ’مکمل فتح‘ کے بعد تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تبدیلی بہت جلد سامنے آئے گی، اور اس کے نتیجے میں توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا۔
کسی مخصوص فوجی یا سفارتی منصوبے کا ذکر نہیں
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کسی خاص فوجی آپریشن، سفارتی منصوبے یا قانونی اقدامات کا ذکر نہیں کیا جس کی بنیاد پر وہ یہ ’مکمل فتح‘ حاصل کریں گے۔ یہ بیان سیاسی اور معاشی دعووں پر مبنی ہے، جس کا مقصد امریکی عوام اور عالمی مارکیٹوں کو حوصلہ دینا ہے۔ 
عالمی اور علاقائی صورتحال
اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جس میں مختلف فوجی اور سفارتی محاذوں پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران کی طرف سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور نہ ہی ابھی واضح ہے کہ امریکہ کس طرح کی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔
توانائی مارکیٹوں اور تیل کی قیمتوں پر اثرات
ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کیا ہے، مگر توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے، جن میں سپلائی کی حالت، آبنائے ہرمز کی صورتحال، عالمی پابندیاں، جنگی خطرات اور عالمی طلب شامل ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ امریکہ کے اس دعوے کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں واقعی کم ہوں گی یا نہیں۔ یہ ایک سیاسی اور معاشی بیان ہے، کوئی سرکاری پیش گوئی نہیں۔