امریکا: جیٹ فیول کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکا: جیٹ فیول کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

جیٹ فیول کی عالمی پیداوار اور قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک اہم توانائی اور جغرافیائی سیاسی (geopolitical) پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات فضائی صنعت اور عالمی تجارت دونوں پر پڑ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ کی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) نے بتایا ہے کہ جیٹ فیول کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ بالخصوص ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات موجود ہیں۔

قیمتوں اور پیداوار میں بڑا اتار چڑھاؤ
مارچ کے دوران جب خطے میں کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال بڑھی تو جیٹ فیول کی قیمتوں میں تقریباً دو گنا اضافہ دیکھا گیا۔ اس صورتحال نے عالمی ریفائنریوں کو زیادہ پیداوار کی طرف مجبور کیا تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔EIA کے مطابق مئی کے آغاز تک امریکہ میں جیٹ فیول کی چار ہفتوں کی اوسط پیداوار پہلی بار 20 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ اس کو امریکی ریفائنریوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی اور ایندھن کی پیداوار میں اسٹریٹجک تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

برآمدات اور عالمی اثرات
امریکہ میں اضافی پیدا ہونے والا جیٹ فیول بڑی مقدار میں یورپ اور ایشیا کو برآمد کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان خطوں میں سپلائی کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں اس کے نتیجے میں ہوائی سفر کے اخراجات بھی بڑھنے کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مارچ سے مئی کے دوران امریکی خلیجی ساحل پر جیٹ فیول کی اوسط قیمت 3.91 ڈالر فی گیلن رہی، جو سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔ اسی رجحان کے اثرات دیگر بین الاقوامی تجارتی مراکز میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے اور مستقبل کے خدشات
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے اردگرد غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو:

عالمی فضائی کمپنیوں کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں
ہوائی ٹکٹ مہنگے ہونے کا امکان ہے
اور سپلائی چین پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے
آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم ترین تیل اور توانائی کے راستوں میں سے ایک ہے، کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں عالمی منڈی میں فوری اثر ڈال سکتا ہے، جس کی جھلک موجودہ قیمتوں اور پیداوار میں واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔