لاہور میں ایل پی جی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

لاہور میں ایل پی جی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

لاہور میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو مہنگے داموں گیس خریدنا پڑ رہی ہے۔

 شہر کی مختلف مارکیٹوں میں ایل پی جی 550 سے 580 روپے فی کلوگرام تک فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری قیمت اس سے کہیں کم ہے۔مارکیٹ میں جاری اس اضافے نے گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھا دی ہیں، خصوصاً ایسے گھرانے متاثر ہو رہے ہیں جو قدرتی گیس کی عدم دستیابی کے باعث کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔

سرکاری قیمت اور مارکیٹ ریٹ میں بڑا فرق
اوگرا نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلوگرام مقرر کر رکھی ہے، تاہم لاہور کی مارکیٹ میں صارفین کو یہی گیس 550 سے 580 روپے فی کلوگرام تک خریدنا پڑ رہی ہے۔اس طرح مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت سرکاری نرخ سے تقریباً دو گنا تک پہنچ گئی ہے، جس سے سرکاری قیمت پر عمل درآمد اور قیمتوں کی نگرانی کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

دکانداروں نے پلانٹ مالکان کو ذمہ دار قرار دے دیا
ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پلانٹ مالکان کی جانب سے مہنگی گیس کی فراہمی اور سپلائی سے متعلق مسائل ہیں۔دکانداروں کے مطابق، جب انہیں ایل پی جی زیادہ قیمت پر دستیاب ہوتی ہے تو ان کے لیے سرکاری نرخ پر فروخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس مؤقف کی آزادانہ تصدیق اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کے تعین کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات ضروری ہیں۔

قدرتی گیس کی عدم دستیابی سے شہری پریشان
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ قدرتی گیس کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باعث انہیں متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی خریدنا پڑتی ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ان کے ماہانہ بجٹ پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔صارفین کے مطابق، گھریلو استعمال کے لیے گیس پہلے ہی ایک بنیادی ضرورت ہے، لیکن موجودہ نرخوں پر ایل پی جی خریدنا عام گھرانوں کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔

قیمتوں پر کنٹرول اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کا مطالبہ
لاہور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد قیمتوں کی نگرانی اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کا معاملہ اہم ہوگیا ہے۔ صارفین کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ سپلائی، قیمتوں کے تعین اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی ایل پی جی کے نرخوں کا جائزہ لیں۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ایل پی جی کی دستیابی بہتر بنانے کے ساتھ سرکاری قیمت پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں مہنگے داموں گیس خریدنے سے ریلیف مل سکے۔فی الحال دکانداروں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار پلانٹ مالکان کو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت کے درمیان نمایاں فرق کی وجوہات اور اس معاملے میں ممکنہ کارروائی کے حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔