احتساب کے میدان میں نیب کا موازنہ دنیا کے کسی دوسرے ادارے سے نہیں کیا جا سکتا، ادارہ ملکی قوانین میں رہتے ہوئے ہائی پروفائل کیسز کی میرٹ پر تفتیش کر رہا ہے
رئیل اسٹیٹ کی ٹرانزیکشن تین لوگوں کے درمیان ہو گی‘ پراپرٹی کی کوئی بھی ڈیل کیش پر نہیں ہو گی‘ چار سے ماہ پانچ کے بعد فائل کی کوئی اوقات نہیں ہو گی
ہر پلاٹ پر بار کوڈ والا نمبر ہوگا ‘ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تمام منظوریاں ایک ہی چھت تلے ہوں گی‘ نیب کا ڈائریکٹر لیول کا بندہ ریگولیٹری بورڈ میں شامل ہو گا:تقریب سے خطاب
لاہور(آئی این پی)چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے کہا ہے علامتی ایم او یوز نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہوں۔ اب عوام کے ساتھ فراڈ کرنے والوں کی تصویر اب اخبارات میں اشتہار کے ساتھ آئیگی۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بزنس کمیونٹی کو وہ مقام اور حیثیت نہیں دیا گیا جو ان کا حق ہے۔ مجھے 20 کیسز چیمبز یا بزنس فورمز سے ملے تھے اور الحمد اللہ 20 میں سے 19 کیسز ختم کرادیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی آدھی رنگ روڈ سرکاری زمین پرائیوٹ لوگوں کو دے کر پھر ان سے زمین حاصل کی گئی۔ 18 ارب ڈالر کی اکانومی صوبہ پنجاب میں جنریٹ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو دھوکہ دہی دینے والے فراڈیوں کے اب اخبارات میں تصویر کے ساتھ اشتہار دیں گے وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ رئیل اسٹیٹ میں بھی نیب نے ایک جامع لائحہ عمل بنایا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی ریفارمز لانے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا رئیل اسٹیٹ کی ٹرانزیکشن تین لوگوں کے درمیان ہو گی۔ پراپرٹی کی کوئی بھی ڈیل کیش پر نہیں ہو گی۔ چار سے ماہ پانچ کے بعد فائل کی کوئی اوقات نہیں ہو گی۔ چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ ہر پلاٹ پر بار کوڈ والا نمبر ہوگا کوئی فائل کی دھوکہ دہی نہیں دے سکے گا۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تمام منظوریاں ایک ہی چھت تلے ملیں گی۔ نیب کا ڈائریکٹر لیول کا بندہ ریگولیٹری بورڈ میں شامل ہو گا۔
انہوں نے کہا احتساب کے میدان میں نیب کا موازنہ دنیا کے کسی دوسرے ادارے سے نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کا کوئی بھی احتسابی ادارہ یا اکانٹیبلیٹی ایجنسی نیب کے نظام اور کارکردگی کے قریب ترین بھی نہیں ٹھہر سکتی، نیب بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ایک بے مثال ادارہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب بات کرپشن کے خاتمے، وائٹ کالر کرائم کی تفتیش اور لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کی ہو، تو دنیا کا کوئی بھی دوسرا ادارہ نیب جتنی گرفت اور توازن نہیں رکھتا، ادارہ بلاامتیاز احتساب اور ملکی دولت لوٹنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے