کنشاسا: جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں اب تک 600 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق صرف تین روز قبل ایبولا سے ہلاکتوں کی تعداد 500 بتائی گئی تھی، تاہم تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر 600 ہو گئی ہے، جبکہ اب تک 1,759 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایبولا کی یہ وبا رواں سال مئی میں کانگو میں پھیلی اور اب تک ملک کے چار صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ شمال مشرقی صوبہ اتوری سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں نئے کیسز اور ہلاکتوں کی بڑی تعداد سامنے آ رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ وائرس سرحد پار بھی پھیل چکا ہے اور پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی دو افراد ایبولا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد خطے میں نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق موجودہ ایبولا وائرس کے خلاف ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، تاہم مشرقی کانگو کے شہر بونیا میں ویکسین اور علاج سے متعلق کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ ان تجربات سے مستقبل میں بیماری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔صحت کے عالمی ماہرین نے متاثرہ علاقوں میں عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، متاثرہ افراد سے غیر ضروری رابطے سے گریز کرنے اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مراکز سے رجوع کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے مقامی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔