پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسحاق ڈار

پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعاون کا اہم ستون ہے، جبکہ پاکستان 2027 میں اس اسکیم کے لیے دوبارہ درخواست دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

پاکستان اور کروشیا کے درمیان مذاکرات کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کے لیے قانونی روزگار کے مواقع بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا اقوام متحدہ کے منشور، ریاستوں کی خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی فورمز پر دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جبکہ کروشیا نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔نائب وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک دیرینہ تنازع ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی یقینی بنائے، کیونکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان نے مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین سمیت تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور عالمی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک، خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں اور عالمی برادری کو اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔اس موقع پر کروشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر قائم ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔

کروشین وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی، خدمات، صحت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ کروشیا یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا درخواست کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کروشین وزیر خارجہ نے عالمی امن مشنز میں پاکستان کے کردار اور سفارتی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے۔