ایران آبنائے ہرمز کو بطور ’معاشی ایٹمی ہتھیار‘ استعمال کر رہا ہے: مارکو روبیو

ایران آبنائے ہرمز کو بطور ’معاشی ایٹمی ہتھیار‘ استعمال کر رہا ہے: مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دنیا کے خلاف ’’معاشی ایٹمی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اسی لیے ایسا کوئی بھی معاہدہ ممکن نہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو شامل نہ کیا جائے۔

ایک انٹرویو میں مارکو روبیوکا کہنا تھا کہ ایران اس بات پر فخر کر رہا ہے کہ وہ دنیا کی تقریباً 25 فیصد توانائی ترسیل روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر تہران کو جوہری ہتھیار حاصل ہو گیا تو عالمی سلامتی کو درپیش خطرات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ ان کے مطابق ایران جوہری صلاحیت حاصل کر کے خود کو ناقابلِ دسترس بنانا چاہتا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ نے الزام لگایا کہ ایران نہ صرف اپنے ملک بلکہ پورے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس کے مختلف علاقائی گروہوں سے روابط ہیں، جو ایرانی جوہری تحفظ کے بعد مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کا نظریہ ہی کسی بڑے سمجھوتے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

مارکو روبیو کے مطابق ایران اندرونی معاشی دباؤ اور پابندیوں کے باعث وقتی ریلیف چاہتا ہے، اسی لیے مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو آئندہ حکمتِ عملی کا فیصلہ امریکی صدر کریں گے۔دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بدلے پابندیاں ختم کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت بعد میں کرنے کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم واشنگٹن اس مؤقف کو ناکافی قرار دے رہا ہے۔