9 مئی مقدمات: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 5 ستمبر تک توسیع

9 مئی مقدمات: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 5 ستمبر تک توسیع

لاہور: جناح ہاؤس، عسکری ٹاور، مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو نذر آتش کرنے اور 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ سے متعلق متعدد مقدمات میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مختلف رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 5 ستمبر تک توسیع کر دی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے 8 مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما مسرت جمشید چیمہ اور جمشید اقبال چیمہ کی عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دونوں رہنما ضمانت کی مدت ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے مسرت جمشید چیمہ کی تفتیش جلد مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ مسرت جمشید چیمہ نے 8 جبکہ جمشید اقبال چیمہ نے 4 مقدمات میں عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں۔دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے سمیت دیگر مقدمات میں عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت نے ان کی عبوری ضمانت میں بھی 5 ستمبر تک توسیع کر دی۔اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے دفتر اور کلمہ چوک پر کنٹینر جلانے سمیت 6 مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر مسرت جمشید چیمہ، جمشید اقبال چیمہ، امتیاز محمود شیخ اور دیگر ملزمان بھی عدالت میں موجود تھے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک عابد حسین نے تمام متعلقہ مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 5 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا سے ضمانتوں پر تفصیلی دلائل طلب کر لیے۔ ملزمان کے وکلا نے عدالت سے دلائل کی تیاری کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی۔ادھر 9 مئی سے متعلق مقدمات میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانتوں میں بھی 5 ستمبر تک توسیع کر دی گئی۔ عظمیٰ خان عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ علیمہ خان کی جانب سے ایک روزہ حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام عبوری ضمانتوں پر تفصیلی قانونی دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی کرنے کا عندیہ دیا۔