امریکی حملے کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کی پہلی ویڈیو منظرِ عام پر

امریکی حملے کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کی پہلی ویڈیو منظرِ عام پر

ایرانی سرکاری میڈیا نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی تہران میں واقع رہائش گاہ اور کمپاؤنڈ کی تباہی کی پہلی ویڈیو جاری کر دی، جو ان کی تدفین کے موقع پر منظرِ عام پر لائی گئی۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں میں 86 سالہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی جان سے گئے، جبکہ ان کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ایران کی جانب سے جاری کی گئی 35 سیکنڈ کی ویڈیو میں کمپاؤنڈ کے اندر واقع امام خمینی حسینیہ کو شدید تباہ حال دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ملبہ، منہدم ڈھانچے، ٹیڑھے دھاتی شہتیر اور تباہ شدہ حصے واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ہال اہم ملاقاتوں اور عوامی خطابات کے لیے استعمال ہوتا تھا۔رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی تدفین آج ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جا رہی ہے، جس کے ساتھ ایک ہفتے پر محیط آخری رسومات کا سلسلہ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

 اس دوران تہران، قم، نجف اور کربلا میں بڑے اجتماعات منعقد کیے گئے۔دوسری جانب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے تحفظ کے نام پر ایران میں نئی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے جواباً بحرین اور کویت میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔نوٹ: اس خبر میں شامل جنگی کارروائیوں، حملوں، ہلاکتوں اور جوابی اقدامات سے متعلق متعدد دعوے مختلف فریقوں کے بیانات پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق دستیاب نہیں۔