پاکستان کے ٹیکس نظام کی مؤثریت پر سوالات، ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری

پاکستان کے ٹیکس نظام کی مؤثریت پر سوالات، ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری

ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے پاکستان کے ٹیکس نظام سے متعلق ایک اہم اور تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ٹیکس اصلاحات کی مؤثریت اور موجودہ نظام کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کی اہم نکات:
 ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے میں کم ترین:
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی (Tax-to-GDP) تناسب جنوبی ایشیائی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، حالانکہ مختلف ادوار میں کئی اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

 محض رجسٹرڈ فائلرز کی تعداد بڑھانا کافی نہیں:
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھائی گئی ہے لیکن:نئے فائلرز کی ایک بڑی تعداد یا تو کم آمدنی ظاہر کرتی ہے،یا پھر ٹیکس کی ادائیگی سے گریز کرتی ہے۔
 ٹیکس نیٹ کی محدود رسائی بڑی رکاوٹ:
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹیکس نظام کی رسائی محدود ہے، جو ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

 پالیسیوں میں بہتری کی ضرورت:
ایشیائی ترقیاتی بینک نے سفارش کی ہے کہ صرف رجسٹریشن پر زور دینے کی بجائے پالیسیوں کو مؤثر بنایا جائے۔موجودہ ٹیکس دہندگان سے بہتر تعمیل حاصل کرنے اور محصولات بڑھانے کے لیے پالیسی ریفارمز ضروری ہیں۔
 ایف بی آر کو ترجیحات واضح کرنے کی ضرورت:
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو اپنی ترجیحات مؤثر انداز میں طے کرنی چاہییں تاکہ نتائج زیادہ بہتر ہوں۔

 اصلاحات کے نتائج محدود رہے:
رپورٹ کے مطابق 2021 میں پاکستان کی ٹیکس وصولی تقریباً وہی تھی جو 2007 میں تھی۔اس سے ٹیکس اصلاحات کی مؤثریت اور ان کے عملی نتائج پر سوالات اٹھتے ہیں۔
مالی شفافیت میں کچھ بہتری:
اگرچہ محصولات میں خاص اضافہ نہیں ہوا، لیکن فائلرز کی تعداد میں اضافے سے مالیاتی شفافیت کی کچھ علامات سامنے آئی ہیں۔