ڈھاکا: حسینہ واجد نے طلبہ پر مہلک کارروائی کی خود منظوری دی، بی بی سی آڈیو لیک سے انکشاف

ڈھاکا: حسینہ واجد نے طلبہ پر مہلک کارروائی کی خود منظوری دی، بی بی سی آڈیو لیک سے انکشاف

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے تحقیقی یونٹ BBC Eye کی ایک تصدیق شدہ آڈیو کال نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے گزشتہ سال حکومت مخالف طلبہ احتجاج کے دوران براہِ راست خونریز کارروائی کی منظوری دی تھی۔

 آڈیو کال کا پس منظر:
مارچ 2025 میں لیک ہونے والی یہ آڈیو کال بی بی سی کو موصول ہوئی جس میں شیخ حسینہ واجد کو سکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر مہلک ہتھیار استعمال کرنے، حتیٰ کہ طلبا کو موقع پر گولی مارنے کا حکم دیتے سنا جا سکتا ہے۔ بی بی سی نے اس آڈیو کی آزادانہ فرانزک تصدیق بھی کی ہے۔

 پس منظر: اگست 2024 کی خونی تحریک
یاد رہے کہ اگست 2024 میں طلبہ قیادت میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک نے ملک بھر میں زور پکڑا تھا، جس کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

 حسینہ واجد کا انجام
اس خونی کریک ڈاؤن کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہ ملک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں۔ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد ان کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

 عالمی ردعمل
بی بی سی کی رپورٹ کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ حسینہ کو جنگی جرائم کے مقدمے میں شامل کیا جائے۔ بنگلہ دیش میں بھی متاثرہ خاندانوں کی جانب سے انصاف کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔