کہوٹہ کے سرکاری اسپتال میں خواتین کی نامناسب ویڈیوز بنائے جانے کے سنگین واقعے پر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ اسپتال کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں پیش آیا جہاں چھپ کر ویڈیوز بنائی جاتی رہیں۔ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث دو ملازمین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے موبائل فونز سے قابلِ اعتراض ویڈیوز اور مواد برآمد ہوا ہے، جسے مزید قانونی کارروائی کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔اس معاملے پر اسپتال انتظامیہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مذکورہ ملازمین کو معطل کر دیا ہے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی سربراہی میں 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو 7 روز میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی۔عوامی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملوث عناصر کو مثالی سزا دی جائے تاکہ اسپتال جیسے حساس اداروں میں مریضوں کی رازداری کو مکمل تحفظ حاصل ہو۔