حکومت ، اپوزیشن مذاکرات کرانے کوتیار ہوں ، سپیکر پنجاب اسمبلی

کیا 22 سال میں کسی نے وزیر خزانہ کی مکمل تقریر سنی؟، ایسے رویوں کو روکنا ہوگا
لاہور( کرائم رپورٹر)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سپیکر کا کردار ایوان کو آئین، قانون اور اسمبلی قواعد کے مطابق چلانا ہے، اور بطور سپیکر وہ ایوان کے نظم و ضبط کے محافظ ہیں۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان با مقصد مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کوتیار ہوں اولڈ پنجاب اسمبلی ہال میں نجی یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ، کیا سپیکر کو کسی کی طرفداری کرنی چاہیے؟ میرے کردار کو بار بار غلط انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ میں صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرتا ہوں۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 63-2 میں واضح لکھا ہے کہ اگر کسی رکن کی طرف سے آئین کی خلاف ورزی ہو توسپیکر کو کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔جب ارکان اسمبلی خواتین کے خلاف فحش اشارے کریں، گالیاں دیں یا ہراساں کریں تو سپیکر کا آئینی فرض ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے۔کیا بائیس سال میں کسی نے وزیر خزانہ کی مکمل تقریر سنی؟ ہمیشہ کتابیں پھاڑ کر پھینکی گئیں، سپیکر پر حملے کی کوشش کی گئی، ایسے رویوں کو اب روکنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا تحریک انصاف کے بائیس ارکان نے سپیکر ایاز صادق کو نواز شریف کے خلاف ریفرنس بھجوانے کی درخواست دی، لیکن بعد میں انہی الزامات کو جھوٹا قرار دیا گیا۔ سپیکر نے واضح کیا کہ میں نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں اپوزیشن کو نمائندگی دی جبکہ سابق سپیکر پرویز الٰہی نے ایسا نہیں کیا۔سپیکر نے بتایا کہ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے 37 درخواستیں آئیں جن میں سے 12 صرف شور شرابے سے متعلق تھیں۔آئین کے مطابق انصاف پر مبنی فیصلے ہی ملک کے استحکام کی ضمانت ہیں۔