سندھ کابینہ کا اہم اجلاس، پنشن اصلاحات، صنعتی زون، ریلوے لائن و دیگر منصوبوں کی منظوری

سندھ کابینہ کا اہم اجلاس، پنشن اصلاحات، صنعتی زون، ریلوے لائن و دیگر منصوبوں کی منظوری

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متعدد اہم اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

 اجلاس میں پنشن اصلاحات، کم از کم اجرت کا نوٹیفکیشن، زرعی انکم ٹیکس رولز میں ترمیم، اور انفرااسٹرکچر منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

 پنشن اصلاحات کی منظوری
سندھ کابینہ نے سرکاری ملازمین کی پنشن سے متعلق اصلاحات کی منظوری دے دی۔ یہ اصلاحات اخراجات میں کمی اور پنشن سسٹم کو پائیدار بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اجلاس میں اس فیصلے کو معاشی اصلاحات کی سمت اہم قدم قرار دیا گیا۔

 کم از کم اجرت کا نوٹیفکیشن
کابینہ نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں کم از کم اجرت کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ تاہم، یہ واضح کیا گیا کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ مزدوروں کو حق ملے اور صنعتوں پر یکساں بوجھ پڑے۔

 زرعی انکم ٹیکس میں ترمیم
کابینہ نے زرعی انکم ٹیکس رولز میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے زمین داروں کو سندھ ریونیو بورڈ (SRB) کے ساتھ رجسٹریشن کا پابند کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد زرعی آمدنی کو دستاویزی بنانا اور محصولات کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔

 صنعتی زونز کی منظوری
کابینہ نے سکھر اور حیدرآباد میں نئے انڈسٹریل انکلیو بنانے کی منظوری دی تاکہ صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔

تھرکول تا چھوڑ ریلوے لائن منصوبہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ تھر کول سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کی لاگت 42 ارب روپے ہے۔ منصوبے کے تحت اگر وفاقی حکومت 7 ارب روپے فراہم کرے گی تو سندھ حکومت بھی برابر کی شراکت دے گی۔

 پانی کے منصوبے
حب ڈیم کی مرمت کے لیے واٹر بورڈ کو 1 ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری۔ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے کراچی تک 36 کلومیٹر پانی کی لائن بچھانے کے منصوبے کے لیے واٹر بورڈ کو 10.56 ارب روپے کا بلاسود قرض فراہم کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔
 وزیراعلیٰ سندھ کا مؤقف
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اجلاس میں کہا:"سندھ حکومت عوامی فلاح، مالی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں میں توازن قائم رکھ کر وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنا رہی ہے۔"