سندھ کابینہ اجلاس: پانی، پنشن، انڈسٹریل انکلیوز اور ریلوے منصوبوں سمیت کئی اہم فیصلے

سندھ کابینہ اجلاس: پانی، پنشن، انڈسٹریل انکلیوز اور ریلوے منصوبوں سمیت کئی اہم فیصلے

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اہم اجلاس میں ڈی ایچ اے کو پانی کی فراہمی، پنشن اصلاحات، صنعتی زونز کے قیام اور تھر کول ریلوے منصوبے سمیت کئی فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔

پانی کی فراہمی:
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈی ایچ اے کو صرف 4 تا 5 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ ضرورت 15 ایم جی ڈی کی ہے۔ڈی ایچ اے کو ڈملوٹی سے 10 ایم جی ڈی پانی پہنچانے کے لیے 36 کلومیٹر پائپ لائن بچھانے، پمپنگ اسٹیشن، فلٹریشن پلانٹ اور حوض بنانے کی منظوری دی گئی۔ڈملوٹی پروجیکٹ کے لیے واٹر بورڈ کو 10.56 ارب روپے کا بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔

پنشن اصلاحات:
کابینہ نے پنشن اصلاحات کی منظوری دی اور محکمہ خزانہ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی۔ساتھ ہی لیبر ڈپارٹمنٹ کو کم از کم اجرت کے نوٹیفکیشن کی تیاری کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی گئی۔

زراعت اور انسانی حقوق:
کابینہ نے زرعی انکم ٹیکس رولز کی منظوری دی جس کے تحت زمیندار کو ایس آر بی کے ساتھ رجسٹریشن لازم ہوگی۔ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اقبال ڈیتھو پر الزامات کی جانچ کے لیے وزیر قانون، وزیر ایکسائز اور معاون خصوصی پر مشتمل سب کمیٹی قائم کر دی گئی۔

صنعتی زونز:
سکھر میں 400 ایکڑ اور حیدرآباد میں 951 ایکڑ زمین پر انڈسٹریل انکلیوز قائم کرنے کی منظوری دی گئی، یہ منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوں گے۔

ووکیشنل سینٹر اور تربیت:
بٹ خیلہ، ملاکنڈ میں گرلز اینڈ وومن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر قائم کرنے کی منظوری دی گئی جس پر ایک ارب روپے لاگت آئے گی۔ ادارہ زیبسٹ یہ مرکز قائم کرے گا۔

تھرکول ریلوے منصوبہ:
تھرکول سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھانے کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی۔ منصوبے پر 42 ارب روپے لاگت آئے گی۔وفاق 7 ارب روپے فراہم کرے گا، اتنی ہی رقم سندھ حکومت دے گی۔

حب ڈیم کی مرمت:
حب ڈیم کی مرمت کے لیے واٹر بورڈ کی جانب سے ایک ارب روپے کا شیئر دینے کی منظوری دی گئی۔سندھ کابینہ کے ترجمان کے مطابق تمام منصوبوں کا مقصد بنیادی سہولیات کی بہتری، صنعتی ترقی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔