سابق بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ٹینس کے عالمی شہرت یافتہ ایونٹ ومبلڈن کے دوران ٹینس اور کرکٹ کے دباؤ کا دلچسپ موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات ٹینس کا ماحول اور ہر پوائنٹ پر پڑنے والا دباؤ، پاک بھارت کرکٹ میچ سے بھی زیادہ شدید محسوس ہوتا ہے۔
ومبلڈن میں خصوصی شرکت
ویرات کوہلی نے پیر کے روز ومبلڈن میں ہونے والے مینز راؤنڈ آف 16 کا میچ دیکھا، جہاں سربیا کے نوواک جوکووچ کا مقابلہ آسٹریلیا کے ایلکس ڈی مینور سے ہوا۔ اس موقع پر کوہلی نے سٹار اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"ومبلڈن کے سینٹر کورٹ کا ماحول بےحد سنجیدہ اور دباؤ سے بھرپور ہوتا ہے۔ ہر پوائنٹ پر سب کچھ داؤ پر ہوتا ہے، اور ہر لمحہ میچ کا رخ موڑ سکتا ہے۔"
"پاک بھارت میچ جیسا دباؤ صرف چند کرکٹ میچز میں ہوتا ہے"
ویرات کوہلی نے مزید کہا:"کرکٹ میچز میں بھی دباؤ ہوتا ہے، لیکن اکثر اوقات وہ دباؤ محسوس نہیں ہوتا، خصوصاً جب آپ بیٹنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ شور اور تنقید باہر سے آتی ہے لیکن سنائی نہیں دیتی۔ البتہ فیلڈنگ کے دوران باؤنڈری کے قریب یہ دباؤ واضح محسوس ہوتا ہے۔"انہوں نے کہا:"صرف کچھ میچز — جیسے کہ ورلڈکپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان — ایسے ہوتے ہیں جہاں ایک ایک لمحہ آپ کے اعصاب پر چھا جاتا ہے۔ سیمی فائنل یا فائنل جیسے میچز میں تو آپ کے پاؤں بھی کانپنے لگتے ہیں، مگر ٹینس کھلاڑی یہ دباؤ ہر کوارٹر فائنل سے ہی محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔"
ٹینس کھلاڑیوں کی فٹنس اور حوصلے کی تعریف
کوہلی نے ٹینس کے کھلاڑیوں کی ذہنی و جسمانی مضبوطی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ:"ہر پوائنٹ میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی برداشت، اعصاب، اور فٹنس کا مکمل امتحان ہوتا ہے۔ میں ان کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔"
ویرات کوہلی کی حالیہ کرکٹ ریٹائرمنٹ
یاد رہے کہ ویرات کوہلی نے حال ہی میں T20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنا آخری ٹی 20 میچ 2024 کے ورلڈکپ فائنل میں کھیلا، جہاں وہ پلیئر آف دی میچ بھی قرار پائے۔اس سے قبل وہ مئی 2024 میں ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائر ہو چکے ہیں، تاہم وہ اب بھی ون ڈے انٹرنیشنل فارمیٹ میں بھارتی ٹیم کے لیے دستیاب ہیں۔