دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات کے ماحول میں بلغاریہ کی مشہور نابینا پیشگو بابا وانگا سے منسوب 2026 سے متعلق پیشگوئیاں ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
بابا وانگا، جو 1996 میں 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں، ان سے منسوب دعوے آج بھی خوف اور تجسس کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی ایک پیشگوئی کے مطابق سال 2026 انسانیت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اسی سال تیسری عالمی جنگ کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے۔ تاہم ان کے مطابق یہ جنگ انسانیت کے مکمل خاتمے کا سبب نہیں بنے گی، جبکہ دنیا کا حتمی خاتمہ سال 5079 میں ہوگا۔موجودہ عالمی حالات، جن میں روس اور یوکرین کی جنگ، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، تائیوان پر دباؤ اور عالمی طاقتوں کے مابین ممکنہ تصادم شامل ہیں، ان پیشگوئیوں کو مزید زیرِ بحث لے آئے ہیں۔
دلچسپ طور پر بابا وانگا نے نومبر 2026 میں انسانوں اور خلائی مخلوق کے درمیان پہلے براہِ راست رابطے کی پیشگوئی بھی کی تھی۔ ان کے مطابق ایک بڑا خلائی جہاز زمین کے ماحول میں داخل ہوگا، تاہم اس مخلوق کے عزائم کے بارے میں کوئی واضح تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے نامعلوم فضائی مظاہر (UAPs) اور پراسرار خلائی اجسام، جیسے 3I/ATLAS، نے ان دعوؤں کو مزید توجہ دلائی ہے۔
بابا وانگا سے منسوب دیگر پیشگوئیوں میں 2028 میں وینس پر توانائی کے ذرائع کی تلاش، 2033 میں قطبی برف کے پگھلنے سے سمندری سطح میں اضافہ، 2046 میں مصنوعی انسانی اعضا کی بڑے پیمانے پر تیاری، 2076 میں دنیا میں کمیونزم کا پھیلاؤ، 2170 میں شدید عالمی قحط، 3005 میں مریخ کی مخلوق کے ساتھ جنگ، 3797 میں زمین کے ناقابلِ رہائش ہونے اور 5079 میں دنیا کے مکمل خاتمے جیسے دعوے شامل ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بابا وانگا کی تمام پیشگوئیاں درست ثابت نہیں ہوئیں۔ بعض دعوے، جیسے امریکا کے آخری صدر سے متعلق پیشگوئی یا 2010 میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا دعویٰ، مکمل طور پر غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ اسی لیے ان پیشگوئیوں کو زیادہ تر عوامی دلچسپی اور قیاس آرائی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اس کے باوجود، بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی کے ماحول میں 2026 سے متعلق یہ دعوے لوگوں کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ آیا دنیا واقعی کسی بڑے تاریخی موڑ کے قریب ہے یا یہ سب محض خوف پر مبنی کہانیاں ہیں۔